Urdu book · سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ

اجتماعی ملکیت کے غیر اسلامی ہونے کے اسباب

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

متاثر کیا ہے۔ اس وقت سماج جن دشواریوں میں مبتلا ہے اس کے علاج کے لیے تحدید ملکیت، مشترکہ کھیتی، اقتصادی منصوبہ بندی اور نیشنلائزیشن کی تدبیریں اسی طرز فکر کا نتیجہ ہیں۔ انسان اب عام طور پر یہ سوچنے لگے ہیں کہ ملکیتی نظام میں تبدیلی اور کچھ معاشی کارروائیوں کے ذریعہ انسانیت کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ اسی سے معاشی نا ہمواری ختم ہوگی، اسی سے سماجی اونچ نیچ کا علاج ہوگا، اسی سے بگڑے ہوئے اخلاق درست ہوں گے، اسی سے سیاسی استبداد کا خاتمہ ہوگا، اسی سے بین الاقوامی امن قائم ہوگا۔ غرض، انسانیت کے سارے دکھوں کا علاج اور اس کی کامیابی کی راہ صرف یہ ہے کہ مادی زندگی یا دوسرے لفظوں میں اس کے معاشی شعبے میں کچھ تبدیلیاں کردی جائیں۔ یہی وہ فلسفہ ہے جس سے متاثر ہو کر اسلام میں اجتماعی ملکیت کی گنجائش ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، مگر یہ طرز فکر بنیادی طور پر اسلام سے ٹکراتا ہے۔ اسلام نہ تو اس فلسفہ کو تسلیم کرتا ہے اور نہ اس کی تعلیمات میں اس کی کوئی گنجائش ہے کہ انفرادی ملکیت کے فطری نظام کو الٹ کر نام نہاد سماجی ملکیت کا نظام انسانیت کے اوپر لادنے کی کوشش کی جائے۔ اسلام کے نزدیک انسان کے بننے یا بگڑنے کی بنیاد یہ ہے کہ وہ خدا سے ڈرتا ہے یا خدا سے نہیں ڈرتا۔ جب کہ سوشلزم کے نزدیک انسان کا بننا یا بگڑنا اس بات سے تعلق رکھتا ہے کہ وہ کس قسم کے معاشی قوانین کے اندر زندگی گزار رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ معاشیات کی تنظیم کے بارے میں اسلام کا نقطۂ نظر سوشلزم کے نقطۂ نظر سے اسی طرح ٹکراتا ہے جس طرح خدا پرستی اور مادہ پرستی ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جس طرح ’’جدلی مادیت‘‘ زندگی کی صحیح تشریح نہیں ہے اسی طرح اجتماعی ملکیت کا نظریہ بھی اسلام سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ ان دونوں کی یکجائی ممکن نہیں۔ ۳۔ ہم جس دنیا میں رہ رہے ہیں وہ کوئی ایسی دنیا نہیں ہے جہاں ابھی ملکیتیں قائم نہیں ہوئی ہیں اور ہمیں اس کام کی ابتداء کرنے کے لیے کوئی نقشہ بنانا ہے، بلکہ صورت حال یہ ہے کہ دنیا کا نظام صدیوں سے انفرادی ملکیت پر مبنی چلا آ رہا ہے۔ ہم کوئی دنیا نہیں بنانی ہے بلکہ بنی ہوئی دنیا میں تبدیلی کرنی ہے۔ ایسی حالت میں اجتماعی ملکیت قائم کرنے کا سوال سب سے پہلے یہ سوال سامنے لاتا ہے کہ اس طرح کی کسی اسکیم کے لیے لوگوں کی قائم شدہ ملکیتوں کو ان کی مرضی کے خلاف حاصل کیا جا سکتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page