اجتماعی ملکیت کے غیر اسلامی ہونے کے اسباب
Urdu book, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے یا نہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اجتماعی ملکیت کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کا سوال مثبت سے زیادہ منفی نوعیت رکھتا ہے۔ ہم کو صرف یہ نہیں دیکھنا ہے کہ اسلامی شریعت میں اس کے موافق کوئی دفعہ پائی جاتی ہے یا نہیں، بلکہ اس سے زیادہ ضروری یہ دیکھنا ہے کہ اس اسکیم کو اگر کسی آبادی میں نافذ کیا جائے تو شریعت کے قائم کیے ہوئے حدود کے اندر رہ کر اسے نافذ کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اس حیثیت سے جب ہم اسلام کے قانونِ ملکیت کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے شخصی جائیداد کے لیے جو تحفظات تسلیم کیے ہیں ان کو ساقط کیے بغیر کسی آبادی میں اجتماعی ملکیت کی اسکیم کو جاری نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام نے کسب معاش کے لیے کچھ حدود و شرائط مقرر کی ہیں، جو شخص ان حدود و شرائط کا پابند رہتے ہوئے دولت اور جائیداد حاصل کرتا ہے وہ گویا اسلامی قانون کی رو سے ایک جائز ملکیت کا مالک بناتا ہے۔ پھر آپ کس بنا پر اس سے ملکیت کا حق ساقط کریں گے؟ اس عمل کے لیے قانونی بنیاد کیا ہے؟ وہ کون سی منطق ہے جس کے ذریعہ آپ کا فعل حق بجانب قرار دیا جا سکتا ہے؟ چونکہ دنیا میں اب تک سارا کاروبار انفرادی ملکیت کے اصول پر چل رہا ہے اس لیے اجتماعی ملکیت کا نظام لانے کے لیے سابقہ انفرادی ملکیتوں کو سلب کرنا پڑے گا۔ اس عمل کے بغیر اجتماعی ملکیت کا نظام قائم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ نظام کلا یا جزء جس درجہ میں بھی اختیار کیا جائے اسی کے بقدر افراد کی ملکیتوں کو غصب کرنا ضروری ہوگا۔ پھر کیا اسلام کے قانون میں ایسی کسی دفعہ کی نشان دہی کی جا سکتی ہے جو محض اجتماعی تنظیم کے لیے افراد کی ملکیتوں کو سلب کرنا جائز قرار دیتی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ دولت حاصل کرنے کے طریقے کیا ہوں اور حاصل شدہ دولت کو کن راہوں میں صرف کیا جائے؟ اس سلسلہ میں نہایت تفصیلی ہدایات دے کر شریعت ایک طرف جائز طور پر حاصل کی ہوئی انفرادی ملکیتوں کی تصدیق کرتی ہے اور دوسری طرف یہ بھی متعین کر دیتی ہے کہ افراد کی ملکیتوں میں حکومت کس حد تک اور کن پہلوؤں سے دخل دینے کی مجاز ہے۔ اسلام کی تعلیمات میں سے کوئی تعلیم اور صدرِ اول کے نظائر میں کوئی نظیر اس امر کی تائید میں پیش نہیں کی جاسکتی کہ افراد کو ملکیت بنانے کی ممانعت ہو یا اس پر حد بندی قائم کی گئی ہو۔ اور نہ اس کا ثبوت دیا جا سکتا ہے کہ لوگوں کی ملکیتیں محض

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader