اجتماعی ملکیت کے غیر اسلامی ہونے کے اسباب
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
اس لیے چھینی جاسکتی ہیں کہ ریاست کی طرف سے ان کا یکجائی انتظام کرنا ہے۔ اس سلسلہ میں جتنی دلیلیں دی گئیں وہ سب نہایت کمزور ہیں اور ان سے شریعت کے اصل منشاء کے بجائے زبردستی اپنا منشاء برآمد کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ۴۔ اسلام کے معاشی نظام کا پورا ڈھانچہ انفرادی ملکیت کے اصول پر قائم ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ اسلام کا معاشی نظام اپنی مخصوص نوعیت کے ساتھ انفرادی ملکیت کا نظام ہے۔ اس مجموعہ میں اجتماعی ملکیت کا اصول کلاً یا جزءاً جس درجہ میں بھی اختیار کیا جائے اس سے زبردست تضاد پیدا ہوتے ہیں۔ غور کیجیے! لوگوں کی ذاتی ملکیتوں کو چھین کر انہیں اجتماعی ملکیت بنا دینے کے تصور کے پیچھے اصل منطق کیا ہے؟ سیدھی سی بات ہے کہ اگر کوئی شخص زرعی فارم کا مالک ہے یا اس نے اپنی کوششوں سے کوئی کارخانہ قائم کیا ہے یا کسی کے پاس مشین اور دوسرے آلات پیداوار ہیں تو آخر کس بنا پر یہ چیزیں اس سے چھین لی جائیں گی؟ ذرائع پیداوار کو انفرادی ملکیت سے نکال کر اس کو اجتماعی ملکیت بنانے کا جو تصور ہے اس کے پیچھے نظریاتی بنیاد کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اجتماعی ملکیت کا تصور اس نظریۂ محنت کی پیداوار ہے جو مارکس اور دوسرے فلسفیوں نے وضع کیا تھا۔ انگریز ماہر اقتصادیات ڈیوڈ رিকারڈو (David Recardo) کا خیال تھا کہ ’’کسی تجارتی سامان کی قیمت اس مقدار محنت کے لحاظ سے متعین ہوتی ہے جو اس کی تیاری میں صرف کی گئی ہو۔‘‘ رিকারڈو کے اس خیال کو لے کر مارکس نے مشہور نظریہ قائم کیا جس کو ’’قدر زائد‘‘ کا نظریہ کہا جاتا ہے۔ مارکس کے اس نظریہ کے مطابق، محنت ہی کے ذریعہ اشیاء میں قدر و قیمت پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے کسی چیز سے حاصل شدہ قیمت کو بھی صرف محنت کا حصہ ہونا چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں محنت ہی وہ چیز ہے جو آدمی کے حق میں کسی چیز کی ملکیت کا استحقاق پیدا کرتی ہے۔ جہاں ذاتی محنت کے بغیر آدمی کسی چیز کا مالک بن جائے وہ اس کا مالک نہیں بلکہ غاصب ہے جس کو چھین ہی لینا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سوشلزم صرف ذاتی محنت کی کمائی کو جائز سمجھتا ہے، اس کے نزدیک دولت اور جائیداد کے ذریعہ حاصل کی ہوئی آمدنی جائز آمدنی نہیں ہے کیوں کہ وہ حقوق مالکانہ کے طور پر حاصل کی جاتی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader