Urdu book · سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ

اجتماعی ملکیت کے غیر اسلامی ہونے کے اسباب

Urdu book, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے، نہ کہ محنت کے معاوضہ میں ۔ اس بنا پر سوشلزم کا خیال ہے کہ جو جائیدادیں یعنی وہ چیزیں جن پر دوسروں کی محنت سے کام لے کر دولت پیدا کی جاتی ہے، لوگوں کے قبضہ میں ہیں وہ لوٹ کا مال ہیں۔ یہ ایسے ہتھیار ہیں جن کے ذریعہ کچھ لوگ بے کار بیٹھ کر دوسروں کی محنت کی کمائی ہڑپ کرتے رہتے ہیں۔ اس لیے جائیدادوں کو افراد کے قبضہ سے نکال کر، افراد کے نمائندہ ادارہ’’اسٹیٹ‘‘کے قبضہ میں دے دینا چاہیے تا کہ وہ پیدا وار دولت کے نظام کو صحیح راستہ پر لگائے تاکہ استحصال کا نظام ختم کیا جاسکے۔ گو یا سوشلسٹ فلسفہ کے مطابق، جب کسی سے کوئی جائیداد یا ذریعہ پیدائش کو چھیننا جاتا ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہوتے کہ کسی سے اس کی ملکیت چھین لی گئی ہے بلکہ اس کے معنی صرف یہ ہوتے ہیں کہ آدمی سے وہ چیز چھین لی گئی ہے جس کے ذریعہ وہ دوسروں کی کمائی کو نا جائز طور پر ہڑپ کر رہا تھا۔ یہی وہ نظریہ ہے جس سے اجتماعی تنظیم کے لیے افراد کی ملکیتوں کو چھینے کے حق میں دلیل حاصل ہوتی ہے۔ لیکن اس منطق کو اگر قبول کیا جائے تو یہ اسلام کے نظریہ ملکیت سے براہ راست ٹکراتا ہے۔ ۱۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ پھر کسی ایسی جائیداد پر کسی کا شخصی قبضہ جائز نہیں ہے جس پر وہ خود کام کر کے پیدا وار حاصل نہ کرتا ہو، بلکہ دوسروں کی محنت استعمال کر کے نفع کماتا ہو۔ اس طرح اسلام کا پورا قانونِ وراثت غلط ہو جاتا ہے کیوں کہ وہ کسی محنت کے بغیر آدمی کو جائیداد کا مالک قرار دیتا ہے۔ ۲۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ زمین کو لگان یا بٹائی پر دینا غلط ہے کیوں کہ اس صورت میں کسی ذاتی محنت کے بغیر آدمی ایک کھیت کی پیداوار میں شریک ہو جاتا ہے۔ ۳۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ مکان، سواری اور دوسری چیزوں کو کرایہ پر اٹھانا غلط ہے کیوں کہ اس عمل سے مکان یا سواری وغیرہ کا مالک اپنے لیے جو معاوضہ حاصل کرتا ہے اس میں اس کی ذاتی محنت کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ ۴۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ مضاربت کے اصول پر کسی کو روپیہ دے کر اس کی محنت کی کمائی میں شریک ہونا غلط ہے کیوں کہ یہاں بھی محنت صرف ایک کی ہے، نہ کہ دونوں کی۔ اس نظریہ کے مطابق، زکوٰۃ کا قانون ایک غلط بنیاد پر قائم ہے، کیونکہ بہت سی چیزوں میں اس کا انطباق جائیدادوں کی آمدنی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page