اجتماعی ملکیت کے غیر اسلامی ہونے کے اسباب
Urdu book, p. 47
By Maulana Wahiduddin Khan
پر ہوتا ہے، نہ کہ صرف ذاتی محنت کی کمائی سے پس انداز کی ہوئی رقموں پر۔ غرض، یہ نظریہ محنت جو یہ بتاتا ہے کہ کسی چیز کی آمدنی پر ملکیت کا استحقاق کب پیدا ہوتا ہے، یہ اسلام کے تصور ملکیت اور اس کے معاشی قوانین کے پورے ڈھانچے سے ٹکراتا ہے۔ اگر اس نظریہ کو تسلیم کرکے اس سے ملکیتوں کے سلب کرنے پر استدلال کیا جائے تو خود اسلام کی تنسیخ ہے۔ یہ ’’اسلام کے معاشی مقاصد‘‘ حاصل کرنے کے نام پر خود اسلام کے معاشی نظریہ کو ترک کر دیتا ہے۔ حال میں ادارۂ ثقافت اسلامیہ لاہور سے ایک کتاب شائع ہوئی ہے جس کا نام ہے ’’مسئلہ زمین اور اسلام‘‘۔ مصنف نے اس کتاب میں زرعی اصلاح کے لیے کچھ تجویزیں پیش کی ہیں۔ ان کی پہلی تجویز یہ ہے کہ زمین کی ملکیت بتدریج کاشتکار میں منتقل کی جائے۔ وہ لکھتے ہیں کہ : ’’یہ ہماری زرعی اصلاح کی پہلی بنیادی اینٹ ہے کہ کوئی زمین کا ٹکڑا کسی ایسے آدمی کو کوئی فائدہ نہ پہنچائے جس پر وہ خود محنت نہیں کرتا۔ گویا زمین کی فصل کلیتاً اس کو ملے جو زمین پر کام کرتا ہے۔ ہماری زرعی اصلاح کا یہ پہلا ’’کم سے کم‘‘ قدم ہے۔ یہ ’’کم سے کم‘‘ جہاں سے سوشلسٹ اصلاح کی ابتداء ہوتی ہے وہ ایک ایسا اصول ہے جو اسلام کے پورے معاشی ڈھانچے کو گرا دیتا ہے۔ یہ چند نمایاں اسباب ہیں جن کی بناء پر ہم کہتے ہیں کہ اسلام میں اس کی قطعاً گنجائش نہیں ہے کہ اجتماعی پیداوار کو رواج کرنے کے لیے لوگوں کی ملکیتیں کلّی یا جزئــــاً سلب کر لی جائیں۔ اسلام کا فلسفہ، اس کی روح اور اس کا قانونی ڈھانچہ سب کے سب اس طریقہ کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ جہاں ملکیتیں سلب نہ کی جاسکتی ہوں وہاں اجتماعی ملکیت کا نظام قائم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ دونوں بالکل لازم و ملزوم ہیں جنھیں ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اب ہم ان دلائل کا جائزہ لیں گے جو اسلام کو سوشلزم کے عین مطابق ثابت کرنے اور اسلام کی تعلیمات سے نام نہاد سماجی ملکیت کا نظریہ برآمد کرنے کے لیے پیش کی جارہی ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader