مسلم سوشلسٹوں کے دلائل
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلم سوشلسٹوں کے دلائل اجتماعی ملکیت لے کے طریقہ کو عین اسلامی طریقہ پر ثابت کرنے کے لیے جو دلیلیں دی گئی ہیں وہ عموماً اس قدر بے معنی ہیں کہ ان پر گفتگو کرنا بھی اپنا اور دوسروں کا وقت ضائع کرنا ہے۔ اس قسم کے دلائل کا مطالعہ کرنے کے لیے میں نے حال میں جناب چودھری غلام احمد پرویز کی کتاب’’نظام ربوبیت‘‘ حاصل کی تھی جو موصوف کی شاہکار تصنیف کہی جاتی ہے۔ پرویز صاحب اگر چہ اشتراکیت کے نام پر اجتماعی نظام پیدا وار کے حامی نہیں۔ انہوں نے سرمایہ داری کو’’جذام‘‘ اور کیمو نزم کو ’’سر سام‘‘ کہا ہے۔’’اسلامی اشتراکیت‘‘ کی اصطلاح ان کے نزدیک ایسی ہی ہے’’جیسی قرآنی دہریت لے‘‘۔ مگر خود اسلام کے معاشی نظام کی جو تشریح وہ کرتے ہیں اس میں اور اشتراکیت میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ ان کا’’قرآنی معاشرہ‘‘ بعینہ اسی قسم کا ایک معاشرہ ہے جو اشتراکیت تعمیر کرنا چاہتی ہے۔ میں نے اس کتاب کو خاص طور پر دیکھا، کیوں کہ میرا خیال تھا کہ کم از کم اپنے موضوع پر وہ ایک مکمل کتاب ہوگی۔ اس میں شک نہیں کہ اس کتاب کے لکھنے میں پرویز صاحب نے اپنا پورا زور قلم صرف کر دیا ہے۔ مگر دیکھنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ پرویز صاحب کی یہ کتاب اگر ان کا شاہکار ہے تو اپنے موضوع کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ دراصل ان کے اس مخصوص طرز استدلال کا شاہکار ہے جو دوسرے مسائل کے سلسلہ میں وہ پیش فرماتے رہے ہیں۔ اس کتاب میں قرآن کی آیتوں کا مطلب بیان کرنے میں بالکل اسی قسم کی مہارت کا ثبوت دیا گیا ہے جیسا کہ ایک صاحب کے سامنے میرا نہیں کا یہ شعر پڑھا گیا : سب خوشہ رہا ہیں مرے خرمن کے جہاں میں افراد سے ان کی ملکیتیں چھین کر حکومت کے ذریعہ ان کا یکجائی انتظام کرنے کے نظریہ کو ’’اجتماعی ملکیت‘‘ یا ’’سماجی ملکیت‘‘ کہا جاتا ہے۔ مگر اس نظریہ کا یہ نام محض ایک قانون اور اصطلاحی فریب ہے۔ اس کو ’’حکومتی طبقہ کی ملکیت‘‘ کہنا چاہئے، نہ کہ سارے سماج کی ملکیت۔ نظام ربوبیت، صفحہ ۱۹ - ۲۸۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader