Urdu book · سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ

سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ

Urdu book, p. 49

By Maulana Wahiduddin Khan

انہوں نے اس کا مطلب یہ بتایا کہ ’’میرے آگے سب لومڑی کی دم ہیں‘‘ اس مصرعہ میں ’’رُبا‘‘ ان کے نزدیک لومڑی کا ہم معنی فارسی لفظ ’’رُباہ‘‘ کا مخفف تھا اور خوشہ سے مراد لومڑی کی گچھے دار دُم تھی۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کے استدلال کا کوئی جواب نہیں دیا جا سکتا۔ اسلام کے اندر اجتماعی ملکیت ثابت کرنے کے لیے دوسرے لوگ جو دلیلیں دیتے ہیں ان کا انداز بھی عموماً اسی قسم کا ہے۔ تاہم استدلالات کے اس مجموعہ میں بعض دلیلیں جو کسی قدر وزنی معلوم ہوسکتی ہیں، ہم یہاں ان کے بارے میں مختصر گفتگو کریں گے۔ یہ دلیلیں جو پرویز صاحب اور دوسرے سوشلسٹ ذہن رکھنے والے مسلمانوں کی طرف سے پیش کی جاتی ہیں وہ عموماً تین قسم کی ہیں: ایک وہ جس کی عمارت اسلام کے بنیادی افکار و تصورات پر قائم کی گئی ہے۔ دوسری وہ دلیلیں ہیں جو اسلام کے فلسفۂ شریعت سے اخذ کی گئی ہیں اور تیسری قسم کی دلیلیں وہ ہیں جو تاریخِ اسلام کے نظائر سے حاصل کی جاتی ہیں۔ ہم ان تینوں قسم کی دلیلوں پر ترتیب وار گفتگو کریں گے۔ پہلا استدلال اسلام کے اساسی تصورات سے جو استدلال کیا جاتا ہے پہلے اس کو لیجیے۔ کہا جاتا ہے کہ عملی زندگی کے کسی شعبہ میں اسلام جو رویہ اختیار کرتا ہے وہ دراصل زندگی کے بارے میں اس کے بنیادی تصورات ہی کا عکس ہوتا ہے۔ اسلامی نظام کی ساری تفصیلات اور اس کے تمام فقہی اور قانونی ضابطے دراصل حیات، کائنات اور انسان کے بارے میں اس بنیادی فلسفہ کے قدرتی اور منطقی نتائج کے طور پر ابھرے ہیں جو قرآن کریم نے پیش کیا ہے۔ اس لیے کسی مخصوص قانون کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کے متعلق فیصلہ کرنے کے لیے سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہیئے کہ اسلام کے بنیادی فلسفہ سے وہ مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔ ان حضرات کا دعوٰیٰ ہے کہ اس اعتبار سے اسلام کا مطالعہ کیا جائے تو اس کا فلسفہ نہ صرف یہ کہ اجتماعی ملکیت کے خلاف نہیں معلوم ہوتا بلکہ اس کا یہ صریح تقاضا نظر آتا ہے کہ ایسا ہی ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page