Urdu book · سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ

پہلا استدلال

Urdu book, p. 50

By Maulana Wahiduddin Khan

اس فلسفہ کے دو خاص جزبہ حسب ذیل ہیں : ا۔ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے وہ اللہ نے پیدا کیا ہے اور سب کچھ اسی کا ہے۔ یہاں کوئی بھی چیز اصلاََ انسان کی ملک نہیں ، انسان کے پاس جو اموال و املاک ہیں وہ دراصل خدا کی طرف سے امانت کے طور پر عارضی تصرف کے لیے دیے گئے ہیں۔ اس امانت کا مقصد انسان کو اس کا مالک بنانا نہیں بلکہ اس بات کا امتحان لینا ہے کہ وہ خدا کی مرضی کے مطابق ان میں تصرف کرتا ہے یا نہیں۔ ہر امانت کی طرح اس امانت پر بھی انسان کا قبضہ عارضی ہے ، نہ کہ دائمی۔ ۲۔ دوسری چیز ’’وحدت بنی آدم‘‘ کا تصور ہے۔ یعنی خدا کے نزدیک مختلف انسان الگ الگ نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ سب کی فلاح و سعادت کے اصول اور سب کے حقیقی مفادات یکساں ہیں۔ اس لیے ان کے درمیان فطری رشتہ اخوت و تعاون اور مواساۃ و یہی خواہی کا ہے، نہ کہ کشمکش اور نزاع کا۔ اگر کسی مرحلہ میں ملکیت کا قانون ، اسلام کے تصور انسانی سے ٹکرایا جائے تو اس وقت تصور انسانی کو باقی رکھنے کے لیے ذاتی ملکیت کو ختم کر دیا جائے گا۔ اسلام کے ان تصورات کا تقاضا ہے کہ افراد انسانی کے لیے املاک کی کسی مطلق اور مقدس فہرست کو تسلیم نہ کیا جائے ، کیوں کہ یہ ساری ملکیتیں خدا کی ہیں ، نہ کہ کسی انسان کی ملکیتیں۔ یہ انسان کو اصل مالک کی طرف سے بطور امانت دی گئی ہیں۔ اس لیے کسی انسان کا ان پر ذاتی حق نہیں۔ جو حق ہے وہ شرائط کی تکمیل کے ساتھ مشروط ہے جس کے لیے اصل مالک نے یہ ملکیتیں عطا کی ہیں۔ اگر تصرف کا حق ادا نہ ہو سکے تو مالک کو اختیار ہے کہ اس طرح اپنی املاک کو اس سے چھین لے جس طرح اس نے پہلے عطا کیا تھا۔ اس اصول کا اطلاق مال و املاک رکھنے اور مالکانہ تصرف کرنے اور دوسرے تمام حقوق پر یکساں حیثیت سے عائد ہوتا ہے۔ ملکیت کی یہ نوعیت اور وحدت بنی آدم کا اسلامی تصور تقاضا کرتا ہے کہ خدا نے انسانوں کو جو نعمتیں عطا فرمائی ہیں وہ چند افراد یا کسی ایک طبقہ کی میراث بن کر نہ رہ جائیں بلکہ ان سے تمام انسانوں کو مستفید ہونے کا موقع ملے۔ بنی آدم ایک خاندان ہیں اور کائنات کی جن اشیاء اور قوتوں کو اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page