Urdu book · سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ

پہلا استدلال

Urdu book, p. 51

By Maulana Wahiduddin Khan

پورے خاندان کی تحویل میں دیا گیا ہے، ان سے استفادہ کرنے میں سب کو ایک خاندان کے افراد کی طرح طرزِ عمل اختیار کرنا چاہئے۔ جس طرح ایک خاندان کے اندر تمام چیزیں مشترک ہوتی ہیں اسی طرح اسلام کے تصورِ انسانی کا تقاضا ہے کہ سارے بنی آدم کے لیے چیزوں کا اشتراک تسلیم کیا جائے اور کسی کو یہ موقع نہ دیا جائے کہ کچھ چیزوں پر وہ مستقل قبضہ کر کے دوسرے لوگوں کو اس سے محروم کر دے۔ اسی لیے قرآن مال و املاک کی کسی ایسی تقسیم کو گوارا نہیں کرتا جو انسانوں کے ایک طبقہ کو مقصدِ زندگی کے ناگزیر ذرائع سے محروم کر دے۔ یہ ہے ان دلائل کا خلاصہ جو اسلام میں اجتماعی ملکیت ثابت کرنے کے لیے نظریاتی پس منظر کے طور پر مہیا کیے گئے ہیں۔ اس دلیل کا پہلا جزء یہ ہے کہ انسان کا کائنات کے اندر کسی چیز کا حقیقی مالک نہیں ہے۔ یہ صحیح ہے کہ کائنات کے اندر انسان کوئی مالکانہ حیثیت نہیں رکھتا۔ ملکیت کی کوئی ایسی فہرست نہیں بنائی جا سکتی جو ”مطلق“ اور ”مقدس“ ہو۔ مگر سوال یہ ہے کہ انسان کی یہ حیثیت کس کے مقابلہ میں ہے؟ خدا کے مقابلہ میں یا بندوں کے مقابلہ میں؟ خدا کے مقابلہ میں انسان کی حیثیت یقیناً صرف مکلف اور ذمہ دار ہستی کی ہے، نہ کہ حقدار کی۔ مگر انسان کے مقابلہ میں یہ یقیناً وہ حقدار ہے اور ملکیت کی مقدس فہرست رکھتا ہے۔ اللہ مالک حقیقی نے خود ہی ایک انسان کو دوسرے کے مقابلہ میں بہت سے حقوق دیے ہیں اور ان کو محترم ٹھہرایا ہے جن کو اذنِ الہی کے بغیر ساقط نہیں کیا جا سکتا۔ یہ حقوق خدا نے دیے ہیں اور وہی اپنے حق میں انہیں واپس لے سکتا ہے، کسی انسان کو یہ حق حاصل نہیں کہ اپنے خود ساختہ فلسفہ کی بنا پر لوگوں سے ان کی جائز ملکیتیں چھین لے اور پھر یا تو خود ان پر قابض ہو جائے یا کچھ دوسرے لوگوں کے حوالہ کر دے۔ اس سلسلہ میں یہ کہا جاتا ہے کہ اسلامی ریاست خدا کی نائب ہے، وہ خدا کی زمین پر خدا کی خلافت کی تنظیمی شکل ہے۔ اس بناء پر اس کو بندگانِ خدا کی تمام املاک پر کچھ خصوصی اختیارات حاصل ہیں، دوسرے لفظوں میں نائب ہونے کی وجہ سے اس کو وہی حقوق حاصل ہیں جو مالک کے ہوتے ہیں۔ اس مخصوص حیثیت کی بناء پر اسلامی ریاست کو افراد کے حقوق میں مداخلت کرنے کا پورا حق ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page