Urdu book · سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ

پہلا استدلال

Urdu book, p. 52

By Maulana Wahiduddin Khan

جس طرح مالک اپنے دیے ہوئے حق کو منسوخ کر سکتا ہے اسی طرح اسلامی حکومت کو بھی یہ اختیار حاصل ہے کہ اگر ضرورت سمجھے تو خدا کے دیے ہوئے ملکیتی حقوق ساقط کر دے۔ ان اختیارات کا منشاء یہ ہے کہ یہ املاک مفید ہی اغراض کے لیے استعمال کی جائیں اور فی الجملہ ان سے وہی کام لیا جائے جو مقصد تخلیق سے ہم آہنگ ہو۔ یہ وہی پرانی دلیل ہے جو اس سے پہلے ڈکٹیٹر شپ کی حمایت میں پیش کی جاتی رہی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس سے زیادہ کمزور دلیل اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ خدا کے قانون کے تحت زمین پر جو اسلامی ریاست منتظم ہوتی ہے اس کا کام یہ نہیں ہے کہ اپنے خود ساختہ نظریات کے تحت ان حقوق کو منسوخ کر دے جو خود اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دیے ہیں۔ اس کے برعکس اس کا کام یہ ہے کہ وہ اس بات کی نگرانی کرے کہ خدا کے دیے ہوئے حقوق لوگوں کو مل رہے ہیں یا نہیں۔ وہ خدا کی زمین پر خدا کے قانون کو نافذ کرنے والی ہوتی ہے، نہ کہ اس کو معطل کرنے والی۔ کسی حکومت کے اسلامی حکومت ہونے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ زمین پر خدا کی قائم مقام ہو گئی ہے اور اس کو مطلق اختیارات حاصل ہیں کہ جو چاہے کرے، بلکہ وہ تو اس بات کی ضمانت ہوتی ہے کہ زمین پر خدا کے قوانین کی پابندی ہوگی اور ان کو توڑا نہیں جائے گا۔ جو اسلامی ریاست خدا کے مقرر کیے ہوئے حدود سے تجاوز کرے اور انسانوں سے وہ حقوق سلب کرنے لگے جو خدا نے اپنی شریعت کے ذریعہ انسانوں کو دیے ہیں وہ اپنے مقصد وجود کے خلاف کام کرتی ہے۔ ایسی حکومت خدا کی نائب نہیں، خدا کی باغی ہے۔ اس کی ساری کارروائیاں غیر قانونی ہیں اور اس کے افراد خدا کی عدالت میں سخت سزا کے مستحق ہیں۔ ایسی حکومت لینن اور سٹالن کی نائب ہو تو ہو، خدا کی نائب ہر گز نہیں ہے۔ اس دلیل کا دوسرا جزء، وحدت بنی آدم کا نظریہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی ساری مخلوق ایک بڑے خاندان کی حیثیت رکھتی ہے اور خاندان کے اندر جس طرح سب کچھ مشترک ہوتا ہے اسی طرح پوری انسانیت میں سب کچھ یا ان کا بڑا حصہ ہر ایک کے درمیان مشترک ہونا چاہئے۔ وحدت بنی آدم کی بات تو اپنی جگہ پر بالکل صحیح ہے مگر اس سے جو نتیجہ اخذ کیا گیا ہے اس کی مثال

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page