Urdu book · سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ

پہلا استدلال

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

بالکل ایسی ہے جیسے کوئی شخص قرآن کی یہ آیت پڑھے: خلق لكم من انفسكم ازواجاً اے انسانو! خدا نے تمہارے لیے تم ہی میں سے تمہارے جوڑے لتسكنوا اليها۔ (الروم :۲۱) (صنف مقابل) پیدا کیے ہیں تا کہ تم ان سے سکون حاصل کرو۔ اور اس کی تفسیر یہ کرے کہ اس میں ’’مشترک شادی‘‘ کا اصول بیان کیا گیا ہے۔ یعنی تمام عورتیں تمام مردوں کے لیے اور تمام مرد تمام عورتوں کے لیے۔ اگر استدلال کا یہی طریقہ اختیار کیا جائے تو اس طرح تو دنیا کی ہر بات ثابت کی جا سکتی ہے۔ وحدت بنی آدم کا یہ مطلب تو ضرور ہے کہ انسان کا باہمی تعلق صلہ رحمی، مواساۃ اور ایثار و تعاون پر مبنی ہونا چاہیے، نہ کہ خود غرضی، کشمکش اور نزاع پر۔ مگر اس سے یہ مطلب کہاں سے نکل آیا کہ سامانِ حیات پر لوگوں کا الگ الگ تشخص نہ ہو، بلکہ اموال و املاک سب کی مشترک ملکیت میں دے دئے جائیں۔ اگر بنی آدم کو ایک بڑا خاندان ماننے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے درمیان ملکیتوں کا اشتراک ہونا چاہیے تو یہ بات اس بڑے خاندان سے پہلے چھوٹے خاندانوں پر چسپاں ہوتی ہے جن کے مختلف افراد کے لیے شریعت نے الگ الگ حصے مقرر کیے ہیں۔ پھر وحدت بنی آدم کی اس تشریح کا مطلب تو یہ ہوا کہ اسلام کا قانونِ وراثت اس کے تصور انسان کے خلاف ہے۔ جس طرح ’’بڑے خاندان‘‘ کے حق میں آپ ملکیتوں کی علیحدگی صحیح نہیں سمجھتے اسی طرح چھوٹے خاندان میں بھی یہ اصول صحیح نہیں ہو سکتا کہ ہر ایک کا الگ الگ حصہ ہو اور خاندان کی تمام املاک اور ان کا منافع ہر ایک کے نام اس کے حصہ کے بقدر تقسیم کر کے دیا جائے ۔ گویا نعوذ باللہ اسلام کے تصور انسان کا تقاضا جتنا یہ حضرات سمجھ رہے ہیں، اتنا بھی اللہ تعالیٰ اس کو سمجھ نہ سکا۔ اس نے معاشرہ کے لیے جو اجتماعی تصور دیا تھا، معاشرہ کی ابتدائی وحدت خاندان کے حقوق و فرائض متعین کرتے وقت خود ہی اس کو بھول گیا۔ وحدت بنی آدم کا مطلب اگر یہ ہے کہ خدا نے انسانوں کو جو نعمتیں عطا فرمائی ہیں وہ چند افراد یا کسی ایک طبقہ کی میراث بن کر نہ رہ جائیں بلکہ ان سے تمام انسانوں کو مستفید ہونے کا موقع ملے۔ دوسرے لفظوں میں، اشیاء پر افراد کا ملکیتی تشخص نہ ہو، بلکہ خدا کی نعمتیں اس کے تمام بندوں کے لیے عام ہوں ۔ اگر وحدت بنی آدم کا مطلب یہ ہے تو اس فلسفہ کے مطابق، اجتماعی ملکیت کا مجوزہ نظام بھی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page