پہلا استدلال
Urdu book, p. 54
By Maulana Wahiduddin Khan
غلط ہے۔ کیوں کہ اس انتظام میں بھی تصرف کا اختیار عملاً ایک ہی طبقہ کے ہاتھ میں رہتا ہے۔ اجتماعی ملکیت کے معنی یہ نہیں ہیں کہ سب کو اجازت عام حاصل ہوگئی۔ جو چاہے اپنی مرضی کے مطابق ، املاک میں تصرف کرے۔ اجتماعی ملکیت در حقیقت حکومتی ملکیت ہے جس میں حکمران طبقہ املاک کا متولی بن جاتا ہے۔ جس طرح ملکیتی نظام میں مالکان جائیداد کو اس کے غیر مالکوں کے مقابلے میں تصرف کا خصوصی اختیار ہوتا ہے ٹھیک اسی طرح اجتماعی نظام میں حکمران طبقہ کو غیر حکمرانوں کے مقابلہ میں تصرف کا خصوصی اختیار ہو جاتا ہے۔ وہ دیں تو دوسروں کو چیزیں ملیں گی، وہ نہ دیں تو خود سے کوئی شخص نہیں لے سکتا۔ اگر وحدت بنی آدم کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی نعمتوں سے تمام لوگ بے روک ٹوک استفادہ کر سکیں تو اس کی صحیح شکل یہ ہے کہ تمام چیزیں بالکل کھلی چھوڑ دی جائیں۔ جس کسی کو بھی جب اور جہاں جس چیز کی ضرورت ہو وہ ہوا اور پانی کی طرح اس کو حاصل کر سکے۔ گویا نجی ملکیت ہو، نہ حکومتی ملکیت، بلکہ انسانی زندگی میں جنگل کا قانون جاری کر دیا جائے جہاں ہر جانور ہر چیز سے استفادہ کر سکتا ہے۔ کسی کو کسی چیز پر ملکیتی یا انتظامی اختیار نہیں ہوتا۔ وحدت بنی آدم کی یہ منطق نجی ملکیت کا نظام توڑ کر اس کو حکومتی طبقہ کی ملکیت بنانے کی تائید نہیں کرتی بلکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ ایک ایسا نظام قائم ہونا چاہئے جس میں سب کو اجازتِ عام حاصل ہو۔ نہ مالک اور غیر مالک کا فرق ہو اور نہ حاکم اور محکوم کی تفریق باقی رہے ۔ گویا وہ نظام جس کے علم بردار بعض انارکسٹ ہیں۔ کیا انسانی معاشرہ میں اس طرح کا نظام قائم کرنا ممکن ہے اور کیا اس دلیل سے اسلام میں سوشلزم کی گنجائش ثابت کرنے والے حضرات اس کی تائید کریں گے۔ یہاں یہ کہا جاتا ہے کہ ہمارا مطلب یہ نہیں ہے کہ سب کچھ مشترک ہو، بلکہ ذاتی ضروریات کی چیزیں انفرادی ملکیت میں رکھ کر بقیہ چیزوں کو مشترک ملکیت میں دیدیا جائے جیسا کہ موجودہ اشتراکی ملکوں میں بالفعل پایا جاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ " کچھ چیزوں " کا استثناء کہاں سے نکل آیا۔ وحدت بنی آدم کا جو تصور آپ بتا رہے ہیں اس کے مطابق مکمل تعاون کی شکل تو یہی ہو سکتی ہے کہ "کچھ "نہیں، بلکہ سب کچھ مشترک ہو۔ اموال و املاک کی جس مقدار پر بھی آپ اس تصور اشتراک کو چسپاں کریں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader