Urdu book · سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ

سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ

Urdu book, p. 55

By Maulana Wahiduddin Khan

گے اسی کے بقدر آپ کے نظریہ میں تضاد واقع ہوگا۔ البتہ اگر وحدت بنی آدم کا مطلب اموال کا اشتراک نہ لیا جائے بلکہ نظریاتی اور انسانی اشتراک لیا جائے، جیسا کہ فی الواقع ہے، تو کسی مقام پر بھی کوئی تضاد واقع نہیں ہوتا۔ ہر دائرہ کے اندر ہم کہہ سکتے ہیں کہ مختلف انسانوں کو اپنے مفاد کے ساتھ دوسروں کے مفاد کا خیال رکھنا چاہئے اور ٹکراؤ کی نوبت نہ آنے دینی چاہئے اور حکومت کو چاہئے کہ وہ اس بات کی نگرانی کرے کہ افراد اس قسم کی کوئی حرکت نہ کرنے پائیں۔ جو شخص یا گروہ ایسا کوئی اقدام کرتا ہوا ملے اس کو فوراً روک کر اپنی حد کے اندر واپس جانے پر مجبور کیا جائے۔ دوسرا استدلال ان حضرات کے استدلال کی دوسری بنیاد فلسفہ شریعت ہے۔ یعنی وہ مقاصد جن کے لئے اسلام نے اپنے احکام وضع کیے ہیں اور زندگی کے مختلف شعبوں کے لیے قانونی ہدایات دی ہیں۔ اس سلسلہ میں ایک بات یہ پیش کی جاتی ہے کہ اسلام کے احکام و ہدایات دو قسموں پر مشتمل ہیں: ایک قانون اور دوسرے اخلاق۔ قانون کے دائرہ میں وہ احکام آتے ہیں جو شریعت نے فرض قرار دیے ہیں اور اخلاق سے مراد وہ ہدایات ہیں جو لازم نہیں قرار دی گئی ہیں بلکہ ان کے سلسلہ میں ترغیب و تلقین پر اکتفا کیا گیا ہے۔ یہ دونوں قسم کے احکام اگرچہ بظاہر مختلف معلوم ہوتے ہیں، کیوں کہ سب کو لازم نہیں قرار دیا گیا ہے، مگر اس حیثیت سے دونوں یکساں ہیں کہ وہ سب کے سب مطلوب ہیں اور سب کی پشت پر اللہ تعالی کی پسندیدگی کی سند اور خود انسانی مصالح کا تقاضا موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لازم اور غیر لازم کی یہ تقسیم اپنی جملہ تفصیلات کے ساتھ دائمی نہیں ہے، بلکہ قانونی اور اختیاری حلقوں کی سرحدیں، زمانہ، حالات اور سماج کے اخلاقی معیار کے ساتھ ساتھ تبدیل کی جاسکتی ہے۔ اسلام کی قانونی ہدایات کی طرح اس کی اخلاقی ہدایات کا تعلق بھی اہم اجتماعی امور سے ہے، جن کو بہر حال انجام پانا چاہئے۔ کیوں کہ ان کی تکمیل سے پورے معاشرہ کے ناگزیر مفادات وابستہ ہوتے ہیں۔ ان کو ہر ہر فرد پر لازم اس لیے نہیں کیا گیا کہ ضروری نہیں کہ ہر فرد میں ان کی بجا آوری کی استعداد و قوت پائی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page