دوسرا استدلال
Urdu book, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
جائے۔ لیکن اگر سارے ہی افراد ان ہدایات کو ترک کر دیں تو شریعت کے بعض ایسے مقاصد متاثر ہوتے ہیں جو کسی حال میں نظر انداز نہیں کئے جاسکتے۔ اسی لیے عام غفلت کی صورت میں ضروری ہو جاتا ہے کہ ان ہدایات کو قانوناً نافذ کیا جائے۔ اجتماعی تنظیم کے لیے سلب ملکیت کے حق میں یہ استدلال بڑے زور و شور کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کا تعلق نہ عقل سے ہے اور نہ اسلام سے۔ آخر جس معاشرہ کے سارے ہی افراد کا یہ حال ہو جائے کہ وہ اپنے فرائض بھول جائیں اور مفاد پرستی ان پر اس قدر غالب آجاۓ کہ اپنے فائدے کے لیے دوسروں کے حقوق پامال کرنا شروع کر دیں۔ ایسے معاشرہ میں وہ لوگ کہاں سے آئیں گے، جن کو سارے ذرائع یا ان کا بیشتر حصہ اس امید میں سونپا جا سکے کہ وہ نہایت ایمانداری کے ساتھ دوسروں کا حق پہنچاتے رہیں گے۔ معیشت کا اجتماعی نظام قائم کرنے کے لیے وزراء اور افسران سے لے کر ہزاروں، لاکھوں اہل کاروں کی ضرورت ہوتی ہے جو پیدا وار اور تقسیم کے مختلف مراحل کا چارج لے سکیں اور عام پبلک تک ان کے حقوق ٹھیک ٹھیک پہنچاتے رہیں۔ پھر جس معاشرہ میں عام غفلت طاری ہو جائے وہاں صالحین کی یہ فوج کیا مریخ سے بلائی جائے گی؟ جب معاشرہ کا ایک ایک فرد بگڑ چکا ہو اور نجی مالک کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام نہ دے رہا ہو تو اس معاشرہ کے افراد سے یہ امید کیسے کی جاسکتی ہے کہ وہ وزیر صنعت اور راشننگ انسپکٹر بن کر اس کام کو ٹھیک طریقہ سے انجام دینے لگیں گے جس کو وہ تاجر اور زمیندار کی حیثیت سے انجام نہ دے سکے۔ پہلی شکل میں تو آدمی کے پاس صرف ملکیت ہوتی ہے اور دوسری شکل میں ملکیت اور اختیار دونوں اکٹھا ہو جاتا ہے۔ پھر جس معاشرہ کے لوگ ایک حیثیت کی ذمہ داری سنبھال نہ سکیں، اسی معاشرہ سے لیے ہوئے افراد سے یہ امید کس طرح کی جاسکتی ہے کہ وہ دو حیثیتوں کا مالک بننے کے بعد وہ بالکل بدل جائیں گے اور اپنی ذمہ داریوں کو نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دینے لگیں گے۔ جس معاشرہ کی ”عام اخلاقی حالت‘‘ بگڑ چکی ہو ایسے معاشرہ کے افراد کو عام حالات سے زیادہ اختیار دینا ان کو ظلم اور لوٹ کھسوٹ کے زیادہ مواقع فراہم کرنے کے ہم معنی ہے۔ یہ تدبیر حالات کو زیادہ بگاڑ کی طرف لے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader