دوسرا استدلال
Urdu book, p. 57
By Maulana Wahiduddin Khan
جاتی ہے نہ کہ سدھار اور اصلاح کی طرف۔ یہی وہ دانش مندانہ تدبیر ہے جس کو یہ حضرات خدا کی شریعت میں ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ مگر اس سے قطع نظر سوال یہ ہے کہ جن ہدایات کو شارع حق جل شانہ نے ترغیبی ہدایات کا درجہ دیا ہے، آپ کو کیا حق ہے کہ انہیں قانون کا درجہ دے دیں اور بالفرض کسی جزئیہ سے آپ اس کی نظیر ڈھونڈ نکالیں کہ ’’مخصوص ہنگامی حالات میں کسی اخلاقی فضیلت کو قانونی لزوم کا درجہ دیا جا سکتا ہے‘‘ تو اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ افراد کی ملکیتیں بھی چھینی جاسکتی ہیں۔ اسلام نے پڑوسیوں کا حق ادا کرنے پر بہت زور دیا ہے، غریبوں اور محتاجوں کی دستگیری کرنے کی طرف رغبت دلائی ہے، یتیموں اور بیواؤں کی خبرگیری کو بہت بڑے ثواب کا کام بتایا ہے۔ اس طرح کی اور بہت سی چیزیں ہیں جن کو اسلام نے لازم نہیں قرار دیا ہے۔ البتہ مختلف طریقوں سے ان کی طرف ترغیب دلائی ہے اور ان پر عمل کرنے والے کے لیے بہت بڑا انعام پانے کی خوشخبری دی ہے۔ یہ جو ہدایات دی گئی ہیں یقیناً یہ محض اس لیے نہیں ہیں کہ ان پر عمل کرنے والے افراد کچھ ثواب کا استحقاق حاصل کر لیں۔ بلکہ ان کے اندر دوسری نہایت اہم مصلحت یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ سے معاشرہ کے مسائل حل ہوتے ہیں اور مجموعی حیثیت سے پورے معاشرہ کا فائدہ ہوتا ہے۔ فرض کیجئے کہ کسی مخصوص ہنگامی حالت کے پیش آنے کی بنا پر آپ یہ طے کریں کہ ان اخلاقی ہدایات کو قانون کا درجہ دیا جانا چاہیے، تو سوال یہ ہے کہ آپ کس چیز کو قانون کا درجہ دیں گے، انہی اخلاقی ہدایات کو یا کسی اور چیز کو آپ کے استدلال کو اگر صحیح مان لیا جائے تو اس کا زیادہ سے زیادہ مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ مخصوص حالات میں خوش حال افراد کو اس کے لیے مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ محتاج بھائیوں کی مدد کریں، یا ریاست ان کے اوپر ٹیکس لگا کر ایسی رقمیں حاصل کر سکتی ہے جس کو دوسرے ضرورت مند افراد تک پہنچایا جا سکے۔ ہر حالت میں صرف اسی چیز کو قانون کا درجہ دیا جا سکتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے عام حالات میں اختیاری اخلاق کا درجہ دیا ہے۔ آپ یہ کر سکتے ہیں کہ اخلاقی ہدایات کی خلاف ورزی کو ایسا جرم قرار دیں جو قابل دست اندازی پولیس ہو، جس کے خلاف عدالتی کارروائی کی جاسکتی ہو، جس پر عمل نہ کرنے والے کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader