دوسرا استدلال
Urdu book, p. 58
By Maulana Wahiduddin Khan
جیل بھیجا جا سکتا ہو، یا اس پر جرمانہ لگایا جا سکتا ہو۔ آپ یہ سب کچھ کر سکتے ہیں مگر اس سے آخری یہ بات کیسے نکلتی ہے کہ لوگوں سے پیدائشی دولت کے ذرائع چھین لو اور اس کا یکجائی انتظام کرو۔ اگر کسی کے ذمہ آپ کا روپیہ باقی ہو اور آپ مانگنے جائیں تو وہ نہ دے، ایسی صورت میں آپ کو یہ حق تو ہے کہ پولیس اور عدالت کی مدد سے اپنا روپیہ برآمد کرنے کی کوشش کریں۔ مگر کیا آپ کو یہ بھی حق حاصل ہے کہ اس آدمی ہی کو قتل کر ڈالیں۔ ایک مثال سے استدلال کی مضحکہ خیز نوعیت اور واضح ہو جائے گی۔ اسلام کے جو ترغیبی احکام ہیں ان کا تعلق صرف معاشی زندگی سے نہیں ہے بلکہ انسانی زندگی کے تمام شعبوں سے ہے۔ مثلاً: نمازیں اور نفل روزے بھی ترغیبی احکام میں شامل ہیں۔ پھر اگر کسی معاشرہ میں اس کے تمام افرادنفل عبادت کو ترک کر دیں اور اس کی ضرورت محسوس ہو کہ نفل عبادات پر عمل کرنا چاہئے ورنہ تقویٰ اور اخلاق کا معیار بہت گر جائے گا۔ ایسی حالت میں اسلامی ریاست کیا فرض انجام دے گی۔ ایک شکل تو یہ ہے کہ وہ لوگوں کو اکسائے اور ایسے محتسب مقرر کرے جو اس کی نگرانی کرتے پھریں کہ افراد اس پر عمل کر رہے ہیں یا نہیں، اور دوسری شکل یہ ہے کہ افراد کے اس حق کو بحق سرکار ضبط کر لیا جائے کہ وہ نفل عبادات بھی کر سکتے ہیں۔ مذکورہ بالا سوشلسٹ منطق کا تقاضا تو یہ ہے کہ یہی دوسرا عمل کیا جائے، یعنی نفل عبادات کو سماجی ملکیت قرار دے کر اس پر ریاست کی اجارہ داری قائم کر دی جائے۔ افراد کو بذات خود نفل عبادات کی ادائیگی کی اجازت نہ ہو، حکومت ”سماجی اہتمام‘‘ کے ذریعہ ان کی ادائیگی کرائے اور پھر اس کے ثواب کو راشننگ اسکیم کے تحت لوگوں کے درمیان تقسیم کرے۔ اس سلسلہ میں فرض کفایہ سے بھی دلیل دی جاتی ہے۔ فرض کفایہ وہ اعمال ہیں جو افراد کے لیے اخلاقی نوعیت رکھتے ہیں۔ مگر پوری جماعت کے لیے وہ فرض ہیں۔ اگر کچھ لوگ اسے انجام دیں تو سب لوگوں کے سر سے ذمہ داری ساقط ہو جائے گی۔ لیکن اگر کوئی بھی انجام نہ دے تو صاحبِ استطاعت افراد کے لیے یہ اخلاقی ذمہ داری ایک فرض عین کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے اور اگر اس کے باوجود کوئی شخص اس کو پورا نہ کرے تو ریاست کی مشین حرکت میں آتی ہے اور اس کی بجا آوری کے لیے مناسب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader