دوسرا استدلال
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
اقدامات کرتی ہے۔ اس فرض کفایہ کی فہرست میں بہت سے دینی امور کے ساتھ وہ دنیوی امور بھی شامل ہیں جو سوسائٹی کی معاشی زندگی کے قیام کے لیے ضروری ہیں۔ اس لیے اگر ریاست یہ دیکھے کہ معاشی زندگی سے متعلق فرض کفایہ کے مقاصد پورے نہیں ہورہے ہیں تو اس کو حق ہے کہ افراد کی ملکیتوں پر قبضہ کرلے اور اجتماعی مفاد کے مطابق اس کا مناسب انتظام کرے۔ اس دلیل کا جواب بھی وہی ہے جو اوپر ہم قانون اور اخلاق کی بحث کے سلسلے میں لکھ چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جس معاشرہ کا یہ حال ہو جائے کہ اس میں بار بار ایسے مواقع آئیں جن میں چند افراد کے حصہ لینے سے بھی پورے معاشرہ کا کام بن جاتا ہے اور ان افراد کو اپنے ایک ذاتی عمل کے نتیجہ میں سارے معاشرہ کا ثواب ملتا ہے۔ مگر وہاں چند افراد بھی ایسے نہ ہوں جو نیکی کے اتنے بڑے کام کا موقع اپنے سامنے دیکھیں تو اس کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ ایسے بگڑے ہوئے معاشرہ کی نمائندہ حکومت اور ایسے معاشرہ سے لیے ہوئے پبلک حکام سے کب یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ ان کے ہاتھ میں کوئی چارج دے دیا جائے گا تو وہ بہت خوش اسلوبی کے ساتھ اپنا فرض انجام دیں گے۔ پھر وہ دوسرا سوال یہاں بھی پیدا ہوتا ہے جو او پر ہم نے نقل کیا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ناگزیر اجتماعی مقاصد اگر اخلاق کے ذریعہ حاصل نہ ہوسکیں تو انہیں قانون کے ذریعہ حاصل کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ مگر اس سے آخر اجتماعی ملکیت کے حق میں کیسے استدلال کیا جا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کوئی فرض کفایہ ادا نہ ہورہا ہو اور حکومت کو اس کی ادائیگی کے لیے حرکت کرنا پڑے تو اس کی حرکت کس سمت میں ہوگی اور وہ کیا اقدامات کرے گی ۔ وہ یہی تو کرے گی کہ جس معاشرہ پر کوئی فرض کفایہ عائد ہوتا ہے اس کے صاحب استعداد افراد سے مطالبہ کرے گی کہ وہ اس کو ادا کریں اور بالجبر ان سے وہ کام کرائے گی جس کو بالرضا انہوں نے انجام نہیں دیا تھا۔ ایسے حالات میں اس کا کام صرف یہ ہو سکتا ہے کہ کسی ہنگامی وقفہ کے لیے اللہ تعالیٰ کے ایسے حکم کی جو مخصوص طور پر کسی فرد کے حق میں متعین نہیں ہے، اس کو مخصوص فرد یا افراد کے لیے متعین قرار دے دے اور بذریعہ قانون اس کی تعمیل کے لیے انہیں مجبور کرے۔ اس کے ماسوا یہ بالکل نیا اور غیر متعلق حق کسی ریاست کو کیسے مل سکتا ہے کہ وہ لوگوں سے ان کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader