Urdu book · سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ

دوسرا استدلال

Urdu book, p. 60

By Maulana Wahiduddin Khan

ملکیتیں چھین لے اور خود ہی سارا انتظام شروع کردے۔ کیا یہ بھی کوئی سوشلسٹ منطق ہے کہ مقدمات خواہ کچھ ہوں ان سے ہمیشہ ایک ہی نتیجہ برآمد ہوگا۔ یہاں بھی میں اس سوشلسٹ تفسیر کی مضحکہ خیز نوعیت کو مثال کے ذریعہ واضح کروں گا۔ اسلامی فقہ کی اصطلاح میں جو اعمال فرض کفایہ ہیں ان کی فہرست بہت بڑی ہے۔ ان میں صرف معاشی قسم کے احکام ہی نہیں ہیں بلکہ دوسرے بہت سے احکام بھی ہیں: مثلاً دفاع، جہاد فی سبیل اللہ، دعوتِ حق، تعلیم و تربیت، شریعت کا علم حاصل کرنا، نمازِ جنازہ، میت کی تجہیز و تکفین، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر، وغیرہ۔ اب اگر کسی معاشرہ میں یہ تمام فرائض کفایہ یا ان میں سے کوئی ادا نہ ہورہا ہو تو عدم ادائگیٔ فرض کی صورت میں ’’سماجی ملکیت‘‘ بنا دینے کی سوشلسٹ منطق یہاں بھی لاگو ہونی چاہئے ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جو معاشرہ ان فرائض سے غافل ہو جائے وہاں حکومت کا کام یہ نہیں ہوگا کہ لوگوں کو ان کے کرنے پر آمادہ کرے یا بذریعہ قوت انہیں مجبور کرے کہ وہ اپنے فرائض ادا کرنے لگیں۔ اس کے برعکس حکومت یہ کرے گی کہ لوگوں سے ذاتی طور پر ادائگیٔ فرض کا حق چھین لے گی اور سماجی پیمانہ پر خود ان کی ادائگی کا اہتمام شروع کردے گی۔ کیا اسلام کے یہ سوشلسٹ مفسرین اپنی منطق کے اس نتیجہ کو ماننے کے لیے تیار ہیں۔ مثلاً : امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ایک فرض کفایہ ہے۔ اب اگر کسی زمانہ میں لوگ اس کو ادا کرنا چھوڑ دیں تو کیا اسلامی حکومت کا کام یہ ہوگا کہ تمام افرادِ معاشرہ سے تبلیغ حق اور تردید باطل کا حق سلب کرلے اور اس کی تنہا اجارہ دار بن جائے۔ ظاہر ہے کہ اس صورت حال کا علاج صرف یہ ہے کہ ریاست لوگوں کو اکسائے، انہیں مجبور کرے کہ وہ اپنا فریضہ پہچانیں ، نہ یہ کہ لوگوں سے حق تو اضی ضبط کرلے اور اس کو اجتماعی ملکیت قرار دے کر خود اس کی متولی بن جائے۔ جب قرآن سے براہِ راست کوئی دلیل نہیں ملتی تو یہ حضرات کہتے ہیں کہ اسلام یقیناً انفرادی ملکیت کو تسلیم کرتا ہے مگر اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ اس بات کی بھی اجازت دیتا ہے کہ افراد، سماج دشمن سرگرمیوں میں مبتلا ہوں ۔ اسلام اس سادہ لوحی سے بری ہے۔ وہ فرد کو حقوق دینے کے ساتھ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page