دوسرا استدلال
Urdu book, p. 61
By Maulana Wahiduddin Khan
اجتماعی مفاد کا بھی تحفظ کرنا چاہتا ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ اجتماعی مفاد کی خاطر غلط افراد کو ایسی حرکتوں سے باز رکھا جائے، خواہ اس کے لیے سیاسی قوت اور جبر ہی سے کیوں نہ کام لینا پڑے۔ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اسلام نے اگر انفرادی ملکیت کی اجازت دی ہے تو وہ اس کو واپس نہیں لے سکتا۔ اگر وہ دیکھے گا کہ افراد اپنی ملکیتوں کو سماج دشمن سرگرمیوں میں استعمال کر رہے ہیں تو یقیناً ملکیتیں ان سے چھین لی جائیں گی اور حکومت اپنے اہتمام میں ان کا انتظام کرے گی۔ یہ صحیح ہے کہ کسی فرد کو ملکیت کے باب میں اتنی آزادی نہیں دی جاسکتی کہ وہ اس کے غلط استعمال سے سماج میں فساد کرے اور اسے زوال و ہلاکت تک پہنچانے کا ذریعہ بنالے۔ افراد اگر اپنی ملکیتوں کے استعمال میں شریعت کی مقرر کی ہوئی حدود سے تجاوز کرنے لگیں اور سماج دشمن سرگرمیوں میں مبتلا ہو جائیں تو اسلامی ریاست کو پورا حق ہے کہ انہیں اس سے روکے اور ان کو اپنی حد کے اندر واپس جانے پر مجبور کرے۔ مگر اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ افراد کی جائز طور پر حاصل کی ہوئی نجی ملکیتوں پر حکومت قبضہ کر سکتی ہے۔ ان حضرات کے نزدیک شاید کسی چیز پر انفرادی ملکیت بھی ”سماج دشمن سرگرمیوں“ کی تعریف میں آتی ہوگی۔ اشتراکیکوں کی منطق تو یہی بتاتی ہے۔ اس استدلال میں دراصل خلط مبحث سے کام لیا گیا ہے۔ یہاں ذرائع اور اس کے استعمال کے فرق کو نظر انداز کر دیا گیا ہے اور اس طرح ذرائع کے غلط استعمال کی آزادی چھین لینے کے اصول سے خود ذرائع کے چھین لینے پر استدلال کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو اسباب و وسائل انسان کو عطا کیے ہیں ان کو صحیح سمت میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے اور غلط سمت میں بھی۔ اسلامی ریاست قائم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ایک ایسی قوت فراہم کی جائے جو لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کو صحیح سمت میں استعمال کرنے پر مجبور کرے، نہ کہ خود ان نعمتوں کو انفرادی قبضہ سے چھین کر بیت المال میں جمع کر دے۔ یقیناً ایسے مواقع آتے ہیں کہ اسلامی ریاست کو لوگوں کے اوپر جبر کرنا پڑتا ہے مگر اس کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ لوگوں سے ان کا جائز اثاثہ چھینتی پھرے۔ البتہ وہ آدمی کو مجبور کرتی ہے کہ خدا کی دی ہوئی نعمتوں کو صحیح سمت میں استعمال کرے۔ مثال کے طور پر کپڑا خدا کی ایک نعمت ہے جو انسان کی ستر پوشی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader