دوسرا استدلال
Urdu book, p. 62
By Maulana Wahiduddin Khan
کے لئے دیا گیا ہے۔ اب اگر کوئی شخص کپڑے لانے کر اس کو سر پر باندھ لے اور ننگا گھومنا شروع کردے تو اس سے کپڑے نہیں لیا جائے گا البتہ اس کو مجبور کیا جائے گا کہ اس کا صحیح استعمال کرے اور اس کے ذریعہ اپنے بدن کو چھپائے۔ ذرائع و وسائل کے غلط استعمال پر پابندی لگانے کے بجائے خود ذرائع و وسائل کو چھین لینا خالص سوشلسٹ فکر کی پیدا وار ہے جس سے اللہ اور اس کے رسول کے رسول بری ہیں۔ اسلام کے نظریہ اجتماع سے مسئلہ ملکیت پر یہاں جو استدلال کیا گیا ہے وہ کس قدر لغو ہے۔ اس کو ہم ایک مثال کے ذریعہ سمجھ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اموال و املاک کو زندگی کے قیام کا ذریعہ بتایا ہے (النساء - ۵)۔ ٹھیک اسی طرح بیوی بھی اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں میں سے ہے جو انسان کو فرائض زندگی ادا کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اب فرض کیجئے کہ کسی معاشرہ میں لوگ بیویوں کے حقوق ادا نہ کریں یا کسی وجہ سے اس کا خطرہ پیدا ہو جائے کہ لوگ اپنی بیویوں کو غلط مقاصد میں استعمال کریں گے تو اس نظریہ کا تقاضہ ہے کہ لوگوں سے ان کی بیویاں چھین لی جائیں اور تمام بیویوں کو سماجی ملکیت قرار دے دیا جائے تا کہ عورتیں مفید ہی اغراض کے لیے استعمال کی جائیں اور فی الجملہ ان سے وہی کام لیا جائے جو مقصد تخلیق سے ہم آہنگ ہو۔ کیا اسلامی ریاست ایسا کوئی اقدام کر سکتی ہے؟ کیا کسی حال میں بھی اجتماعی تحفظ کے یہ معنی ہو سکتے ہیں کہ عورتوں کو سماجی ملکیت قرار دے دیا جائے۔ اس سلسلہ میں آخری دلیل یہ دی جاتی ہے کہ جدید حالات میں جب کہ ٹیکنیکل ترقی نے معیشت کی ایک خاص طرح کی تنظیم ضروری قرار دے دی ہے۔ بہت سی ملکیتوں کو اجتماعی قبضہ میں لینا ضروری ہو گیا ہے تا کہ سماج کی فلاح و ترقی کے بارے میں اسلام کے مقاصد کا یقینی حصول ممکن ہو سکے۔ میرا جواب یہ ہے کہ شریعت نے صرف مقاصد کا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ ان مقاصد کے حصول کے لیے بنیادی طریقے بھی متعین کر دیے ہیں۔ اور یقیناً مقاصد کے حصول کا طریقہ وہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے بتایا ہے۔ دوسرے طریقے یقینی حصول کے طریقے نہیں ہیں بلکہ یقینی طور پر صرف بگاڑ کے طریقے ہیں۔ انسان کے جائز طور پر کمائے ہوئے مال و جائیداد کو اللہ تعالیٰ نے محترم ٹھہرایا ہے۔ ریاست صرف ان مخصوص استثنائی صورتوں میں ان کے اندر مداخلت کر سکتی ہے جو خود شریعت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader