سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ
Urdu book, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
چلا آرہا ہے کہ زمین و آسمان اور تمام موجودات کا خالق ایک فوق الفطری وجود ہے۔ اسی نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اسی کو حق ہے کہ انسانی زندگی کے لیے احکام و ہدایات دے اور اس کو صحیح راہ بتائے۔ پچھلی تاریخ میں جتنی تہذیبیں ملتی ہیں ان میں بیشتر تہذیبیں خدا کو تسلیم کرنے والی ہیں، نہ کہ اس کا انکار کرنے والی۔ اس تصور کے مطابق، قانون کا ماخذ بھی اسی ذات کو ہونا چاہئے جس کا حکم ساری کائنات پر چل رہا ہے اور جس نے انسانوں کو وجود بخشا ہے، جو ان کی زندگی کا سرچشمہ ہے۔ مگر ایک خدا اور اس کے قانون — ایسا قانون جو کسی حال میں بدلا نہیں جاسکتا — کو ماننے میں چونکہ انسان کی خواہشوں پر ضرب پڑتی ہے، اپنی انانیت اور اقتدار کے لیے گنجائش باقی نہیں رہتی، اس لیے عام طور پر ایسا ہوا ہے کہ ان قوموں نے اصل عقیدہ کے ساتھ شرک کو ملایا۔ انھوں نے خدا کو مانتے ہوئے اس کے کچھ ایسے ہمسر اور شریک گھڑے جو خود بھی امر و نہی کے مجاز تھے، اور ان خود ساختہ شریکوں کے نام پر وہ سب کچھ جائز کر لیا جس کو ان کا نفس جائز کرنا چاہتا تھا۔ اس طرح قدیم زمانہ کا انسان خدا کی مانتی کو چھوڑ کر خود مختار بننے اور خدا کے احکام کی پیروی کے بجائے اپنی من مانی کارروائی کرنے کے لیے شرک کا سہارا لیتا رہا ہے۔ ایک طرف اس کی خواہشیں تھیں اور دوسری طرف خدا کا تصور، وہ اپنی خواہشوں کو چھوڑنا نہیں چاہتا تھا اور یہ جرات بھی نہیں کر سکتا تھا کہ خدا کو ماننے سے انکار کر دے۔ اس لیے اس نے شرک کا طریقہ ایجاد کیا اور جو کچھ وہ خدا کی اجازت سے نہیں کر سکتا تھا، اس کو خدا کے شریکوں کے نام پر اپنے لیے جائز کر لیا۔ خدا سے بغاوت کی نئی بنیاد یہ صورت حال قدیم ترین زمانہ سے چلی آرہی تھی، مگر یورپ میں سترہویں صدی عیسوی میں سائنس اور کلیسا کے درمیان جو تصادم ہوا، اس کے بعد تاریخ میں پہلی بار الحاد نے ایک منظم تحریک کی شکل اختیار کی۔ انسان نے یہ سوچا کہ وہ سرے سے خدا کے وجود ہی کا انکار کر دے۔ اب وہ شرک کے بجاے براہ راست خدا کی نفی سے اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اس نے چاہا کہ قانون کا ماخذ خدا کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader