دوسرا استدلال
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
نے متعین کردی ہیں۔ ان مخصوص و متعین صورتوں کے علاوہ کسی کو حق نہیں ہے کہ انسان کی املاک اور اس کی جائیداد میں تصرف کرے۔ شریعت کی اس فہرست میں’’اجتماعی تنظیم کے لیے مداخلت‘‘ کی کوئی دفعہ نہیں ہے۔ اب اگر کوئی شخص ایک خود ساختہ اصول کو نافذ کرنے کے لیے اسلام کے دیے ہوۓ حقوق میں مداخلت کرتا ہے تو یقینی طور پر وہ انسانی وساوس کو شریعت کا درجہ دے رہا ہے اور خدا کے دین میں تصرف کا ذمہ دار ہے۔ اگر اسلام میں اس کی گنجائش ہے کہ حالات زمانہ کا حوالہ دے کر اس کے احکام کو بدلا جاسکے تو پھر ایک شخص یہ بھی مطالبہ کر سکتا ہے کہ موجودہ زمانہ بہت مصروفیت کا زمانہ ہے، خاص طور پر قومی ترقی کی دوڑ میں اس بات کی بڑی اہمیت ہوگئی ہے کہ ہم اپنی انسانی صلاحیتوں کو پوری طرح قومی ترقی کے حصول میں لگا دیں۔ اس لیے پنج وقتہ نماز کے حکم کو اب صرف بوڑھے اور ریٹائرڈ لوگوں کے ساتھ مخصوص کر دیا جائے اور بقیہ افراد کو آزاد کر دیا جائے کہ وہ پوری طرح فارغ ہو کر ترقیاتی کاموں میں اپنا حصہ ادا کر سکیں۔ ایک نماز ہی کیا، یہ دلیل تو ایسی ہے کہ پوری شریعت کو اس کے ذریعہ منسوخ کیا جاسکتا ہے۔ ٹیکنیکل ترقیوں کا حوالہ دے کر اجتماعی ملکیت کی ضرورت ثابت کرنا دراصل اسلام کے اوپر ایک بہت بڑا الزام عائد کرنا ہے۔ یہ دوسرے لفظوں میں اس بات کا اعلان کرنا ہے کہ موجودہ تمدن کے پیچیدہ مسائل کو اسلام حل نہیں کر سکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ کم از کم معاشیات کی دنیا میں اسلام کے بجاۓ غیر اسلام کو اختیار کر لیا جائے۔ گویا ان حضرات کا خیال ہے کہ اللہ تعالی نے ایک دائمی شریعت تو بھیج دی مگر نعوذ باللہ اس کو بیسویں صدی کے حالات معلوم نہ تھے اس لیے وہ اپنی شریعت میں ایسی ہدایات شامل نہ کر سکا جو موجودہ ترقی یافتہ حالات میں ہماری رہنمائی کر سکیں۔ اگر صورت حال یہی ہے تو یہ محض قرآن کی بعض آیتوں کی تفسیر کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ قرآن کو منسوخ کر کے’’ اشتراکیت کی انجیل‘‘ کو قرآن کا مقام دینا ہے۔ کیا اسلام کی سوشلسٹ تفسیر کرنے والے لوگ اس اعتراف کی جرات کریں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader