Urdu book · سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ

تیسرا استدلال

Urdu book, p. 64

By Maulana Wahiduddin Khan

تیسرا استدلال یہ چند نمایاں مثالیں اس استدلال کی تھیں جن کے ذریعہ سے اجتماعی ملکیت کو اسلام کی شریعت اور فلسفہ شریعت سے برآمد کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جب شریعت کے مسلمہ اصولوں سے اس نظریے کے حق میں کوئی دلیل نہیں ملتی تو یہ حضرات اسلامی تاریخ کے بعض واقعات سے اس کے حق میں دلیل لاتے ہیں، بلکہ بعض لوگ تو اس کو اسلام کے مفاخر میں شمار کرتے ہیں کہ اس نے جائیداد کو قومی ملکیت میں لینے کا اصول سب سے پہلے دنیا کے سامنے پیش کیا۔ انسائیکلو پیڈیا آف برطانیہ کا جلد ۱۳ میں زمین کو سماجی ملکیت میں لینے کے عنوان پر جو مقالہ ہے اس میں یہ لکھا ہے کہ ــــــ ” حکومت کی جانب سے آراضی کے خرید لینے کے طریقے کو ایک جرمن گوسن نے پیش کیا۔ اس کے بعد ایک فرانسیسی پروفیسر لیان والرس نے اس کو از سر نو دریافت کیا۔“ چنانچہ ایک صاحب نے اس کو مقالہ نگار کی ناواقفیت قرار دیا ہے اور تحریر فرمایا ہے کہ حکومت کی طرف سے زمین کو خریدنے کی سب سے پہلی مثال اسلام نے پیش کی ہے۔ ۵ لے انہوں نے دور نبوت اور خلافت راشدہ کے بہت سے واقعات کو اکٹھا کر کے دکھایا ہے کہ حکومت اسلامی نے زمینوں کی قیمت دے کر ان کے مالکوں سے جبراً انہیں خرید لیا تھا اور یہ اس وقت ہوا تھا جب کہ جرمنی اور فرانس کے سوشلٹ مفکرین ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے۔ مگر فاضل معترض شاید بھول گئے کہ یہاں اصل سوال محض ”حکومت کی طرف سے زمین کو خریدنے“ کا نہیں ہے بلکہ سماجی مفاد کے نام سے افراد کی ملکیتوں کو واپس لینے کا ہے۔ اگر محض ”خریداری“ کا مسئلہ ہو تو اس کی مثالیں اسلام سے بہت پہلے قدیم ترین سلطنتوں کی تاریخ میں بھی مل سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں اسلام کو اولیت کا سہرا پہنانے کی کوئی وجہ نہیں۔ ہم کو اس سے انکار نہیں ہے کہ اسلامی تاریخ میں متعدد ایسی مثالیں موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض افراد کی ملکیت کو جبراً ان سے حاصل کر لیا گیا تھا۔ مگر ان واقعات کا ”اجتماعی ملکیت“ کے ڈاکٹر محمد یوسف الدین، اسلام کے معاشی نظریے، جلد اول ص ۳۰۸۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page