Urdu book · سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ

تیسرا استدلال

Urdu book, p. 65

By Maulana Wahiduddin Khan

نظریے سے کوئی تعلق نہیں۔ اصل سوال یہ نہیں ہے کہ اسلامی تاریخ میں ملکیت کو چھینے کی کوئی مثال ملتی ہے یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا اسلامی تاریخ میں معاشی مقاصد کے لیے کسی کی ملکیت کو جبر اُس سے واپس لیا گیا ہے۔ اس حیثیت سے جب ہم دیکھتے ہیں تو یہ تمام مثالیں اصل مسئلہ سے بالکل غیر متعلق نظر آتی ہیں۔ ان سے ہرگز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اجتماعی ملکیت کے قیام کے لیے انفرادی ملکیتوں کی تنسیخ کی جاسکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان دلیلوں کی حیثیت اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ: ’’کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا بھان متی نے کنبہ جوڑا‘‘ آنحضور ﷺ اور خلافت راشدہ کے دور سے ملکیتوں کو چھینے کے جتنے واقعات پیش کیے جاتے ہیں وہ سب اصل مسئلے سے غیر متعلق ہیں۔ مثلاً مدینہ اور اطراف مدینہ کے مختلف قبائل کو ان کی زمینوں سے بے دخل کر کے جلا وطن کر دینے کی مثال دی جاتی ہے۔ حالانکہ وہ ”اجتماعی کاشت“ کی غرض سے نہیں چھینی گئی تھی، بلکہ اس کی وجہ یہود کی مسلسل غداری اور بد عهدی تھی ۔ وہ اسلام کی قلم رو میں رہ کر اسلام کے خلاف مستقل سازشیں کرتے تھے اور اسلامی حکومت سے کیے ہوئے معاہدوں کو در پردہ توڑتے رہتے تھے۔ اس کے نتیجہ میں خود ان کے اپنے مذہبی قانون کے مطابق، انہیں جلا وطن کر دیا گیا۔ اس طرح یہ مثال بھی دی جاتی ہے کہ خانہ کعبہ کی عمارت کو وسیع کرنے کے سلسلہ میں حضرت عمرؓ نے بعض لوگوں کے مکانات کو جبر اً اُن سے لے لیا تھا۔ اس کی وجہ بھی ملکیت کا سوشلسٹ نظریہ نہیں تھا بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ خود خدا کے رسولؐ نے کعبہ کے گرد حرم کی حدود مقرر کر کے یہ فرما دیا ہے کہ اس کے اندر کسی کی ملکیت نہیں ہوسکتی۔ بعض لوگوں سے زمینیں اس لیے واپس لے لی گئی تھیں کہ وہ ان کو بیکار ڈالے ہوئے تھے اور ان پر کاشت نہیں کرتے تھے۔ ان مثالوں کو بھی دلیل میں پیش کیا جاتا ہے حالانکہ اس کا تعلق اس اصول سے نہیں ہے کہ ملکیت انفرادی ہو یا اجتماعی ـــــ اس کا تعلق افتادہ زمینوں کے بارے میں اسلام کے قانون سے ہے۔ ایسی کسی زمین پر جو شخص قبضہ کرے مگر اس کے بعد وہ مسلسل اس کو غیر آباد رکھے، نہ خود کاشت کرے نہ دوسرے کو کاشت کرنے کے لیے دے تو اس سے زمین واپس لے کر ایسے شخص کو دے دی جائے گی جو اس پر کام کر کے اس سے پیدا وار حاصل کرے۔ حضرت عمرؓ بن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page