Urdu book · سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ

تیسرا استدلال

Urdu book, p. 66

By Maulana Wahiduddin Khan

عبدالعزیز کی بھی مثال پیش کی جاتی ہے کہ آپ نے شاہی خاندان کی بہت سی جاگیروں کو ضبط کر لیا تھا۔ حالانکہ یہ ضبطی اس لیے تھی کہ یہ جاگیریں ناجائز طور پر کچھ لوگوں کے قبضے میں تھیں۔ آپ نے ان کو لے کر اصل حقدار کو واپس کر دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تاریخ سے کوئی ایک نظیر بھی اس بات کی پیش نہیں کی جا سکتی کہ ’’معاشیات کی اجتماعی تنظیم‘‘ کے لیے کسی کی جائز ملکیت چھین لی گئی ہو۔ اس سلسلے میں جتنی مثالیں دی جاتی ہیں ان کا تعلق اجتماعی معاشیات سے نہیں ہے بلکہ قطعی طور پر دوسری چیزوں سے ہے۔ اس سلسلے کی تمام مثالوں پر تفصیلی گفتگو کرنا طوالت کا باعث ہوگا۔ اس لیے میں صرف ایک مثال کا تجزیہ کروں گا جس کو خاص طور پر اس کی مثال قرار دیا جاتا ہے کہ حکومت کو اختیار ہے کہ اگر وہ معاشی مصالح کے لیے ضرورت سمجھے تو کسی کی ملکیت چھین سکتی ہے۔ اسی سے دوسری تمام مثالوں کی حقیقت بھی واضح ہو جائے گی۔ یہ واقعہ سوادِ عراق کی زمینوں سے متعلق ہے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں پیش آیا۔ کہا جاتا ہے کہ خلیفہ ثانی کے دور میں جب عراق فتح ہوا تو وہاں کی زمینوں کے بارے میں سوال اٹھا کہ اسے کس کی ملکیت قرار دیا جائے۔ فوج کے سپاہیوں کا کہنا تھا کہ اس کو ہمارے درمیان تقسیم کر دیا جائے اور حضرت عمرؓ کا کہنا تھا کہ اس کو حکومت کے قبضہ میں رہنا چاہیے تاکہ اس کے ذریعہ سے وہ غرباء و مساکین کی مدد کر سکے۔ گویا ایک طرف انفرادی ملکیت کا مطالبہ تھا اور دوسری طرف سماجی ملکیت کا۔ اس قضیہ کا جو آخری فیصلہ ہوا وہ یہ کہ زمین حکومت کے قبضہ میں دے دی گئی۔ اس طرح خلیفہ دوم کے عمل نے انفرادی ملکیت کو رد کر دیا اور اجتماعی ملکیت کے طریقہ کو صحیح قرار دیا۔ یہ ہے اس استدلال کا خلاصہ۔ لیکن اگر واقعہ کی تصویر کو سامنے رکھیے تو معلوم ہوگا کہ یہ استدلال بالکل اسی قسم کا ہے جیسے نئی دہلی کی کسی سڑک پر ایک انگریز کا مجسمہ دیکھ کر کوئی شخص یہ سمجھ لے کہ ہندوستان پر اب بھی انگریزوں کی حکومت قائم ہے اور یہ فرض کر کے انگریزی حکومت کی تائید میں تقریر کرنا شروع کر دے۔ عراق کی زمینوں کا مسئلہ پیش کر کے سوشلسٹ حضرات دو باتیں ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ ایک یہ کہ صدر اول میں سماجی ملکیت کا طریقہ اختیار کرنے کی مثال موجود ہے۔ دوسرے یہ کہ کسی جائیداد کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page