Urdu book · سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ

تیسرا استدلال

Urdu book, p. 67

By Maulana Wahiduddin Khan

حکومت کے انتظام میں لینے کے لیے افراد کی ملکیتوں کو چھینا جا سکتا ہے۔ مگر مذکورہ بالا مثال کا ان دونوں باتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہاں سوال یہ نہیں تھا کہ کھیتوں کو انفرادی کاشتکاروں کے پاس رہنے دیا جائے یا حکومت کے قبضہ میں لے کر اجتماعی کاشت کا طریقہ اختیار کیا جائے ۔ وہاں جو سوال یہ تھا کہ ان زمینوں کو سپاہیوں کے درمیان تقسیم کر دیا جائے یا مقامی باشندوں کے قبضہ میں حسب سابق برقرار رکھ کر ان پر خراج لگا دیا جائے۔ دوسرے لفظوں میں ، ان زمینوں کو بہ حال میں انفرادی کسانوں کے زیر کاشت رہنا تھا۔ وہاں کسی کا بھی یہ دعویٰ نہیں تھا کہ ان کو انفرادی کاشتکاروں سے واپس لے لیا جائے بلکہ اصل سوال یہ تھا کہ انفرادی کا شتکار کون ہو ۔ مسلمان فوج کے سپاہی یا وہ مقامی باشندے جو پہلے سے ان زمینوں پر کاشت کرتے چلے آرہے ہیں ۔ دونوں میں سے جو صورت بھی طے پاتی یہ زمینیں بہر حال انفرادی کاشتکاروں کے استعمال ہی میں رہتیں اور حکومت کو یہ حق ہوتا کہ ایک بندوبست کی صورت میں ان زمینوں سے عشر لے اور دوسری صورت میں خراج وصول کرے ۔ اگر یہ بھی سوشلزم کی کوئی قسم ہے کہ ذرائع پیداوار افراد کے قبضہ میں ہوں اور وہ اس پر تنہا یا دوسروں کی مدد سے کام کر کے پیدا وار حاصل کریں اور ہر سال پیدا وار کا ایک حصہ یا مقررہ ٹیکس حکومت کو ادا کر دیا کریں تو ان معنوں میں قدیم شاہی نظام عین سوشلسٹ نظام تھا کیوں کہ اس میں بھی یہی ہوتا تھا کہ زمینوں پر افراد ذاتی حیثیت سے کام کرتے تھے اور اس کے بعد براہ راست یا جاگیردار اور زمیندار کے واسطہ سے حکومت کو مقررہ ٹیکس ادا کر دیتے تھے۔ دوسرا استدلال اور بھی زیادہ بے معنی ہے کیوں کہ وہاں کسی کی ملکیت چھینے کا سوال نہیں تھا بلکہ یہ سوال تھا کہ ایک نئی حاصل شدہ چیز کو قانونی نا کس کی ملکیت قرار دیا جائے۔ فتوحات کے ذریعہ جو غیر منقولہ جائیدادیں اسلامی حکومت کو حاصل ہوتی تھیں ان کے سلسلے میں اب تک دو قسم کے طریقے رائج تھے ۔ ایک یہ کہ انہیں سپاہیوں کے درمیان تقسیم کر دیا جائے۔ دوسرے یہ کہ انہیں اسلامی حکومت کی براہِ راست ملکیت میں رکھا جائے اور اس کی آمدنی سے حکومت کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page