Urdu book · سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ

تیسرا استدلال

Urdu book, p. 68

By Maulana Wahiduddin Khan

ضروریات پوری کی جائیں۔ ۱۶ھ میں عراق فتح ہوا اور وہ سرسبز و شاداب علاقہ اسلامی حکومت میں شامل ہوا جو دریائے دجلہ و فرات کے درمیان واقع ہے۔ تو سوال یہ پیدا ہوا کہ ان زمینوں کے بارے میں مذکورہ بالا دونوں طریقوں میں سے کس طریقہ پر عمل کیا جائے۔ گویا وہاں کسی کی ملکیت چھینے کا سوال نہیں تھا بلکہ ملکیت کو متعین کرنے کا سوال تھا۔ حضرت عمرؓ نے اپنی تقریر میں اس حقیقت کو اچھی طرح واضح کر دیا تھا کہ وہ کسی کی ملکیت نہیں چھین رہے ہیں بلکہ ملکیت جسے ملنی چاہئے اسے دے رہے ہیں۔ اس تقریر کے چند فقرے یہ ہیں : قد سمعتم كلام هؤلاء القوم الذين زعموا أني اظلمهم حقوقهم۔ انی اعوذ بالله ان اركب ظلما، لئن كنت ظلمتهم شيئا هو لهم واعطيته غيرهم لقد شقيت ولكن رايت انه لم يبق شئ يُفتح بعد ارض كسرى، وقد غنمنا الله اموالهم وارضهم وعلوجهم۔ فقسمت ما غنموا من اموال بين اهله واخرجت الخمس فتوجهت على وجهه وانا في توجيه وقد رأيت ان احبس الارضين بعلوجها واضع عليهم فيها الخراج وفى رقابهم الجزية يودونها فتكون فيئاً للمسلمين المقاتلة والذرية ولمن ياتي من بعدهم۔1 تم نے ان لوگوں کی باتیں سنی ہوں گی جن کا خیال ہے کہ (میں نے عراق کی زمین کو فوجیوں کے درمیان تقسیم نہ کرکے ) ان کے اوپر ظلم کیا ہے۔ خدا کی پناہ کہ میں کسی کے اوپر ظلم کروں۔ اگر میں نے کوئی ایسی چیز لی ہوتی جو ان کی تھی اور ان سے چھین کر دوسرے کو دے دیتا تو البتہ میں غلط کا رہتا۔ لیکن میرا خیال ہے کہ اگر میں کسرئی کی اس زمین کو تقسیم کر دوں تو آئندہ فتوحات کا سلسلہ جاری نہ رہ سکے گا (کیوں کہ فوجی مہموں کے اخراجات پورے کرنے کی دوسری کوئی صورت نہیں ہے )۔ اس فتح میں اللہ نے ہم کو مختلف قسم کے اموال بھی دیے ہیں اور زمینیں بھی۔ پس اموال میں سے میں نے پانچواں حصہ نکال کر بقیہ کو اس کے مستحقوں کے درمیان تقسیم کر 1 کتاب الخراج، امام ابو یوسف، صفحه ۳۰ (مطبوعه قاهره ۱۳۲۶ھ)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page