Urdu book · سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ

خدا سے بغاوت کی نئی بنیاد

Urdu book, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

بجائے خود انسان کی طرف منتقل ہو جائے تا کہ نفس پرستی کے لیے شریکوں کا واسطہ اختیار کرنے کی بھی ضرورت نہ رہے ، بلکہ وہ خود اپنے نفس کی اجازت سے جو چاہے کر سکے۔ اس زمانہ میں پادریوں کا زبردست اثر تھا اور سارے یورپ میں نہ صرف یہ کہ وہ مذہب کے ٹھیکہ دار تھے بلکہ اٹلی سے لے کر سکاٹ لینڈ تک تمام ملکوں کی سیاست پر بھی ان کا زبردست اثر تھا۔ ان کا یہ اثر حقیقی مذہبیت اور خدا پرستی کی بنا پر نہیں تھا بلکہ مذہب سے بے تعلقی کی بناء پر تھا۔ عیسائی عوام سخت جہالت اور بے عملی میں مبتلا تھے۔ مگر یہ پادری ان کی بے عملی اور جہالت کو ختم کرنے کے بجائے اس کو باقی رکھ کر باقاعدہ اس کی تجارت کرتے تھے۔ وہ عیسائیوں کو اصل مذہبی تعلیمات پر عمل کرانا نہیں چاہتے تھے۔ کیونکہ اس کے معنی یہ تھے کہ وہ خدا اور مسیح کی طرف متوجہ ہو جائیں گے۔ اس کے بجائے وہ انہیں بے عملی کی حالت میں رکھنا چاہتے تھے تا کہ بے عملی کی تلافی اور آخرت میں خدا کی مغفرت حاصل کرنے کے لیے وہ پادریوں کے پاس آئیں اور انہیں نذرانے ادا کریں۔ چنانچہ اس زمانے میں جنت کے قبائے جائداد کی معمولی دستاویزوں کی طرح بکتے تھے۔ مغفرت کے پروانے ، نقض قانون کے اجازت نامے اور نجات کے سرٹیفکیٹ بے تکلف فروخت کیے جاتے تھے۔ جنت کو خدا پرستی اور عمل کے ذریعہ حاصل کرنے کی کوشش کے بجائے لوگ پاپاؤں کی دکان سے اس کو سونے چاندی کے عوض خرید رہے تھے۔ اس کاروبار کے ذریعہ کلیسا کو زبردست آمدنی تھی اور وہ لوگ بادشاہوں کی مانند زندگی گزارتے تھے۔ ایسے حالات میں جب یورپ میں عقلیت کا آغاز ہوا، نئے نئے نظریات کی وجہ سے تقلید کی زنجیریں ٹوٹنے لگیں، پادریوں کے پھیلائے ہوئے اوہام و خرافات پر تنقید کی گئی اور بے سمجھے بوجھے اس پر ایمان لانے سے انکار کیا جانے لگا تو مذہبی حلقوں میں قیامت برپا ہو گئی۔ کیوں کہ اس طرح کی عقلیت اور آزادی کے پیدا ہونے کے معنی یہ تھے کہ پاپائی نظام کی غیر معمولی اہمیت کا طلسم ٹوٹ جائے اور علم و عمل کی ایک نئی شاہراہ کھل جانے کی وجہ سے ان کا اقتدار باقی نہ رہے۔ چنانچہ ارباب کلیسا نے ان مفکروں اور سائنس دانوں کے خلاف کفر کا فتویٰ دے دیا جو ان نئے نظریات کو پیش کرنے کے ذمہ دار تھے اور دین مسیحی کی حفاظت کے نام پر ان کا خون بہانے اور ان کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page