Urdu book · صبح کشمیر

صبح کشمیر

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مکہ میں 610 عیسوی میں ہوئی۔ اُس زمانے میں قریش کو عرب میں قیادت کا مقام حاصل تھا۔ پیغمبرِ اسلام نے قریش سے امن کا معاہدہ کیا، جو اسلام کی تاریخ میں، معاہدۂ حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت، پیغمبرِ اسلام نے قریش کی قائدانہ حیثیت کو تسلیم کر لیا، اور قریش کی یک طرفہ شرطوں کو مانتے ہوئے آپ نے اُن سے 10 سال کا نا جنگ معاہدہ (no-war pact) کر لیا۔ اس معاہدے کے مطابق، قریش کی قائدانہ حیثیت برقرار رہی، اور آپ کو پر امن دعوت کے لیے کھلے موقع مل گئے۔ یہی اجتماعی کام کا پیغمبرانہ ماڈل ہے۔ اہلِ کشمیر اور تمام دنیا کے مسلمانوں کو اسی پیغمبرانہ ماڈل کی پیروی کرنی ہے۔ یہی واحد ماڈل ہے جس کی پیروی کر کے مسلمان دنیا میں عزت اور کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے سوا کوئی دوسرا ماڈل اس دنیا میں قابلِ عمل نہیں۔ اس کے مطابق، اہلِ کشمیر اور دنیا کے تمام مسلمانوں کے اوپر فرض ہے کہ وہ نفرت اور تشدد کا طریقہ مکمل طور پر چھوڑ دیں۔ وہ مسلح جدوجہد (armed struggle) کے لفظ کو اپنی ڈکشنری سے ہمیشہ کے لیے نکال دیں۔ وہ نفرت پر مبنی لٹریچر کو جلا دیں، وہ ٹکراؤ کی سیاست کو کامل طور پر چھوڑ دیں، وہ اپنے تمام ہتھیاروں کو ہمیشہ کے لیے دریا میں پھینک دیں، وہ دوسرے انسانوں کے حریف (rival) بننے کے بجائے، دوسرے انسانوں کے خیر خواہ (well-wisner) بن جائیں، وہ دل سے انسان دوست کلچر (human-friendly culture) کو اختیار کر لیں، ایسا کرنا اپنی خواہش پر چلنے کے بجائے، خدا کی صراطِ مستقیم پر چلنا ہوگا، اور جو لوگ اپنی خواہش کا اتباع چھوڑ دیں اور وہ خدا کی صراطِ مستقیم کے پیرو بن جائیں، وہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے دنیا کی سعادت بھی مقدر ہے اور آخرت کی سعادت بھی۔ سنتِ رسول کے خلاف 1947 کے بعد کشمیر میں پرشور کشمیری جدوجہد شروع ہوئی۔ ابتدا ء وہ جلسہ جلوس اور پرامن مظاہرہ کی شکل میں تھی، مگر ان کوششوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اس کے بعد کشمیریوں میں تشدد کا مزاج پیدا ہوگیا۔ اکتوبر 1989 میں کشمیریوں نے پر امن طریقہ کار کو چھوڑ کر مسلح طریقہ کار کا راستہ اختیار کر لیا۔ اب ہر طرف گن کلچر اور بم کلچر نظر آنے لگا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page