صبح کشمیر
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
کشمیری تحریک کے اس نئے موڑ سے صرف چند ماہ پہلے میں سری نگر گیا تھا۔ وہاں 29 جون 1989 کوسری نگر کے ٹیگور ہال میں میری ایک تقریر ہوئی۔ اس تقریر کا آڈیو کیسٹ اب بھی موجود ہے۔ اس تقریر میں، میں نے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ بیان کیا تھا۔ واقعہ یہ تھا کہ ایک عرب بدو مدینہ آیا۔ وہاں اس نے مسجد نبوی کو گندا کر دیا۔ صحابہ نے اس کو پکڑ کر اس کی سرنش کرنا چاہا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اس سے منع کر دیا۔ آپ نے کہا کہ جہاں اس نے گندا کیا ہے، وہاں تم پانی بہا کر اس کو صاف کر دو۔ (صحیح البخاري، رقم الحدیث: 5679) پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اس سلوک کا عرب بدو پر بہت زیادہ اثر ہوا۔ اس کے بعد اس نے اپنے قبیلے میں جا کر لوگوں کے سامنے یہ واقعہ بیان کیا تو اس کا قبیلہ اتنا متاثر ہوا کہ جلد ہی پورا قبیلہ اسلام کے دائرے میں داخل ہو گیا۔ اس واقعے کو بیان کرنے کے بعد میں نے کہا کہ یہ پیغمبرِ اسلام کا طریقہ ہے۔ پیغمبر اسلام نے اپنا مقصد پانی بہا کر حاصل کیا تھا، آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ اپنا مقصد خون بہا کر حاصل کریں ۔ ایسا ہونا خدا کی اس دنیا میں کبھی ممکن نہیں۔ بعد کے حالات بتاتے ہیں کہ 29 جون 1989 کو اللہ کی توفیق سے جو الفاظ میں نے کہے تھے، وہ کشمیر میں ایک واقعہ بن گئے۔ کشمیریوں کی مسلح جدوجہد سے صرف اُن کے نقصان میں اضافہ ہوا، اس سے ان کو کوئی مثبت فائدہ حاصل نہ ہو سکا۔ اب آخری وقت آ گیا ہے کہ کشمیر کے مسلمان یوٹرن (U-turn) لیں، وہ پر تشدد قومی جدوجہد کے بجائے پرامن دعوتی جدوجہد کو اپنا نشانہ بنائیں۔ تاریخ کو انتظار ہے قرآن کی سورہ یونس میں یہ آیت آئی ہے: والله يدعو إلى دار السلام (25: 10) یعنی اللہ بلاتا ہے امن کے گھر کی طرف : And God calls to the home of peace. اسی طرح، قرآن کی سورہ آل عمران میں یہ آیت آئی ہے: أفغير دين الله يبغون، وله أسلم من في السماوات والأرض طوعاً وكرهاً، وإليه يُرجعون ((3 : 83) یعنی کیا وہ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں، حالاں کہ اللہ کے دین کے تابع ہے، وہ سب کچھ جو زمین اور آسمان میں ہے، اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader