تاریخ کو انتظار ہے
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
سب کو اُسی کی طرف لوٹنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا مطلوب دین امن کا دین ہے۔ ستاروں اور سیاروں کی دنیا میں کامل امن قائم ہے۔ اسی طرح، نباتات اور حیوانات کی دنیا میں بھی امن کا کلچر موجود ہے۔ یہی امن کا کلچر انسان سے بھی مطلوب ہے۔ اسلام کا مدعا یہ ہے کہ لوگ اس امن کلچر پر قائم ہوں، کیوں کہ تمام مثبت سرگرمیاں اُسی سماج میں کامیابی کے ساتھ جاری ہوتی ہیں جہاں امن کا ماحول قائم ہو۔ موجودہ زمانے میں ایک طرف، عالمی میڈیا کا دور آیا۔ دوسری طرف یہ ہوا کہ عین اسی زمانے میں ساری دنیا کے مسلمان جہاد کے نام پر مسلح جدوجہد (armed struggle) میں مشغول ہو گئے۔ ان سرگرمیوں کا یہ منفی نتیجہ نکلا کہ ساری دنیا میں اسلام، تشدد کا مذہب (violent religion) سمجھا جانے لگا۔ یہ بے حد سنگین صورتِ حال ہے۔ اس وقت سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ اسلام کی اس منفی تصویر (negative image) کو بدلا جائے۔ عالمی میڈیا کا امیج بلڈنگ (image building) کا ذریعہ بنایا جائے، یعنی اسلام کو اس حیثیت سے نمایاں کیا جائے کہ وہ لوگوں کو مذہب تشدد (religion of violence) کے بجائے، مذہب امن (religion of peace) نظر آنے لگے۔ اب آخری وقت آ گیا ہے کہ مسلمانوں میں کم ازکم کوئی ایک گروہ ایسا اٹھے جو اسلام کی متشددانہ تصویر کو بدلے، جو اس بات کا ذریعہ بنے کہ خدا کا دین لوگوں کو امن اور رحمت کا دین دکھائی دینے لگے، جو اب تک لوگوں کو صرف نفرت اور تشدد کا دین نظر آرہا ہے۔ یہ موجودہ زمانے کی ایک عظیم ترین سعادت ہے۔ جو مسلم گروہ اس سعادت کا حق دار بنے گا، وہ بلا شبہ دنیا اور آخرت میں اللہ کے عظیم انعامات کا مستحق قرار پائے گا۔ اس مقصد کو کوئی ایسا مسلم علاقہ انجام دے سکتا ہے جو بروقت عالمی میڈیا میں آ چکا ہو۔ موجودہ زمانے میں کئی ایسے مسلم علاقے ہیں جو عملاً عالمی میڈیا میں آ چکے ہیں۔ لیکن حالات بتاتے ہیں کہ غالباً صرف ایک مسلم علاقہ ہے جو اس واقعے کو ظہور میں لا سکتا ہے۔ راقم الحروف کے اندازے کے مطابق، یہ علاقہ ریاست جموں وکشمیر ہے۔ مختلف اسباب سے یہ علاقہ بالفعل عالمی میڈیا میں آ چکا ہے۔ مگر ابھی وہ متشددانہ اسلام (violent Islam) کے اعتبار سے، عالمی میڈیا میں ہے۔ اب جو کچھ کرنا ہے، وہ صرف یہ کہ اہل کشمیر اپنی اس حیثیت کو دریافت کریں اور اس کو مثبت معنوں میں وہ اسلام کی امیج بلڈنگ کے لیے استعمال کریں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader