Urdu book · صبح کشمیر

صبح کشمیر

Urdu book, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ عظیم سعادت اہل کشمیر کو اُس وقت حاصل ہوگی، جب کہ وہ اپنے ہتھیاروں کو دریا میں پھینک دیں، اور اعلان کے ساتھ دنیا کو یہ بتا دیں کہ اب انھوں نے متشددانہ کلچر کو چھوڑ دیا ہے۔ اب انھوں نے سوچ سمجھ کر پُر امن طریقہ اختیار کر لیا ہے، جو کہ اصل اسلام کا طریقہ ہے۔ اہل کشمیر کا یہ فیصلہ فی الفور عالمی میڈیا کے لیے ایک بریکنگ نیوز (breaking news) بن جائے گا۔ یہ ایک عظیم کریڈٹ ہے جو کسی مستحق گروہ کا انتظار کر رہا ہے، اور اہل کشمیر بلاشبہ یہی گروہ بن کر اس کریڈٹ کا استحقاق حاصل کر سکتے ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات (632ء) کے بعد وہ حالات پیدا ہو گئے۔ جب کہ عرب میں اسلام کی امیج (image) اُس سے مختلف نظر آنے لگی جو کہ پیغمبر اسلام کے زمانے میں تھی۔ اُس وقت حضرت ابو بکر صدیق اُٹھے۔ انھوں نے کہا: أينقص الدين، وأنا حي (هداية الرواة لابن حجر العسقلانی، رقم الحديث: 3031) کیا دین میں نقص آئے گا، حالاں کہ میں زندہ ہوں۔ اِس کے بعد اللہ تعالیٰ کی مدد آئی اور حالات بہت جلد درست ہو گئے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اہل کشمیر کھڑے ہو کر یہ کہیں کہ— ہم اس بات کو برداشت نہیں کر سکتے کہ اسلام کو تشدد کا مذہب سمجھا جائے۔ ہم دوبارہ دنیا کو بتائیں گے اسلام رحمت اور امن کا مذہب ہے۔ جس دن اہل کشمیر متحد ہو کر یہ کہیں گے ، اُسی دن اللہ کی مدد ٹوٹ پڑے گی اور اسلام دوبارہ مذہب امن کی حیثیت سے عالمی سطح پر اپنی جگہ حاصل کر لے گا۔ کشمیر دھماکہ (Kashmir explosion) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 622 عیسوی میں مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ ہجرت سے پہلے آپ نے فرمایا تھا کہ : أمرت بقرية تأكل القرى، يقولون يثرب، وهي المدينة (صحيح البخاري، رقم الحديث (1748) یعنی مجھ کو ایک ایسی بستی کا حکم دیا گیا ہے جو تمام بستیوں کو کھا جائے گی۔ لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں، اور وہ مدینہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ مدینہ کے لیے اللہ نے مقدر کیا تھا کہ وہ دعوت توحید کے لیے فلیش پوائنٹ (flash-point) بنے۔ چناں چہ ایسا ہی ہوا، مدینہ کی طرف ہجرت کے بعد توحید کا دین (اسلام) بہت جلد ایک عالمی دین بن گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page