Urdu book · صبح کشمیر

صبح کشمیر

Urdu book, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

گیا ۔ یہی ناشکری ہے، اور ناشکری بلا شبہ ابلیس کی پیروی ہے۔ جب بھی کوئی فرد یا گروہ شکر کے راستے سے ہٹتا ہے اور نفرت اور تشدد کے راستے پر چلتا ہے تو اس کا سبب ہمیشہ کوئی ایک شکایت ہوتی ہے ۔ اُس وقت بھی عملاً ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کو 99 چیزیں ملی ہوئی ہوتی ہیں، لیکن ایک چیز کے نہ ملنے کو وہ اتنا بڑا مسئلہ بنا لیتا ہے کہ وہی ایک چیز اس کے دماغ پر چھا جاتی ہے۔ اسباب شکر کے ہجوم میں وہ شکایت کا جنگل بن جاتا ہے۔ یہ طریقہ بلا شبہ شیطان کا طریقہ ہے ، خواہ اس کو کتنے ہی خوب صورت الفاظ میں بیان کیا گیا ہو۔ کشمیر یا اس طرح کے دوسرے مقامات پر جہاں مسلمان سیاسی شکایت کو لے کر بے فائدہ ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ سب اس کی مثالیں ہیں ۔ ان مقامات پر ایسا نہیں ہے کہ مسلمان کلی محرومی کا شکار ہو گئے ہوں ۔ یہ لوگ کسی جزئی شکایت پر غیر ضروری طور پر حساس ہو گئے ہیں ۔ یہی غیر ضروری حساسیت ان کا اصل مسئلہ ہے۔ اگر وہ اس غیر ضروری حساسیت کو ختم کر دیں تو اچانک وہ محسوس کریں گے کہ ان کو اتنا زیادہ ملا ہوا ہے کہ انھیں شکر کی تحریک چلانا چاہیے، نہ کہ ناشکری اور شکایت کی تحریک۔ تشدد کی تزئین تشدد (violence) کامل معنوں میں ایک تخریبی عمل ہے۔ پوری تاریخ بتاتی ہے کہ تشدد کے ذریعے کبھی بھی کسی فرد یا گروہ کو کوئی مثبت کامیابی حاصل نہیں ہوئی ۔ جب بھی کسی فرد یا گروہ نے تشدد کا طریقہ اختیار کیا تو اس کے حصے میں صرف تباہی آئی، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی تعمیر ۔ اس کے باوجود کیوں ایسا ہے کہ لوگ بار بار تشدد کا فعل کرتے ہیں، لوگ بار بار متشددانہ کارروائی کرتے ہیں۔ اس کا سبب شیطانی تزئین (Satanic beautification) ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ شیطان کا خاص طریقہ یہ ہے کہ وہ ایک غلط کام کو خوب صورت الفاظ میں پیش کرتا ہے، وہ فساد کو اصلاح کا نام دیتا ہے (15 : 39)۔ اس طرح شیطان لوگوں کے ذہن کو متاثر کرتا ہے۔ وہ لوگوں کو اس فرضی یقین میں مبتلا کرتا ہے کہ جو کچھ تم کرنے جا رہے ہو، وہ تشدد نہیں ہے، بلکہ وہ مقدس جہاد ہے۔ وہ شہادت کا راستہ ہے جو تم کو سیدھے جنت تک پہنچانے والا ہے۔ اس طرح شیطانی تزئین کا شکار ہو کر لوگ تشدد کا عمل کرنے لگتے ہیں۔ وہ ایک غلط کام کر رہے ہوتے ہیں، لیکن شیطان اُن کو بتاتا ہے کہ یہ ایک اچھا کام ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page