صبح کشمیر
Urdu book, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوتا ہے جو عملی اعتبار سے قابل حصول ہو۔ اس معاملے میں اصل قابل لحاظ بات یہ نہیں ہے کہ ہمارے اپنے معیار کے مطابق، کیا ہونا چاہیے۔ اصل قابل لحاظ بات یہ ہے کہ خالق کے تخلیقی منصوبے کے مطابق کیا ہوسکتا ہے۔ یہ مسئلہ کسی نظری معیار کا مسئلہ نہیں ہے، یہ مسئلہ تمام تر یہ ہے کہ اس دنیا میں کیا چیز عملیّاً قابل حصول ہے اور کیا چیز عملاً قابل حصول نہیں۔ خالق کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، اس دنیا میں ہر انسان کو آزادی حاصل ہے۔ ہم دوسرے کی آزادی کو منسوخ نہیں کر سکتے۔ ہمارے لیے قابلِ عمل بات صرف یہ ہے کہ ہم دوسروں کی رعایت کرتے ہوئے اپنے عمل کا منصوبہ بنائیں، ہم دوسروں کو عمل کا موقع دیتے ہوئے اپنے لیے عمل کا موقع نکالیں ۔ یہی زندگی کی حکمت ہے۔ اس حکمت (wisdom) کی موافقت سے دنیا میں امن قائم ہوتا ہے۔ اس حکمت کی موافقت نہ کرنا، نفرت اور تشدد کو فروغ دینا ہے، اور نفرت اور تشدد صرف مسئلے میں اضافہ کرنے والا ہے، نہ کہ اس کو ختم کرنے والا۔ یہ فطرت کا ایک اٹل اصول ہے۔ اس معاملے میں کسی کا کوئی استثنا نہیں۔ جو لوگ فطرت کے اس نظام کی خلاف ورزی کریں، ان کے لیے اس دنیا میں صرف تباہی مقدر ہے، خواہ انھوں نے اپنے غیر فطری عمل کو کتنا ہی زیادہ خوب صورت نام دے رکھا ہو۔ پیغمبر کی رہنمائی حضرت علی بن ابی طالب چوتھے خلیفہ راشد ہیں۔ 40 ہجری (661 عیسوی) میں ان کی وفات ہوئی۔ اس کے بعد لوگوں نے حضرت حسن بن علی کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کرلی۔ مگر اُس وقت مسلمان دو گروہ میں بٹ گئے تھے۔ ایک گروہ حضرت حسن کے ساتھ تھا، اور دوسرا گروہ حضرت معاویہ کے ساتھ۔ دونوں گروہوں میں اختلافات اتنے زیادہ بڑھے کہ دونوں گروہوں میں جنگ کی صورت پیدا ہوگئی۔ اُس وقت حضرت حسن کے ساتھ چالیس ہزار مسلح افراد تھے۔ اگر جنگ ہوتی تو دونوں طرف کے ہزاروں آدمی مارے جاتے۔ حضرت حسن نے اس ٹکراؤ کو پسند نہیں کیا۔ چناں چہ وہ یک طرفہ طور پر عہدے سے دست بردار ہوگئے اور خلافت کا عہدہ حضرت حسن نے معاویہ کے حوالے کر دیا۔ حضرت حسن کی یہ روش اُس وقت کے مسلمانوں کو پسند نہیں آئی۔ انھوں نے آپ کے خلاف سخت بیانات دئے۔ ایک مسلمان نے آپ کو خطاب کرتے ہوئے کہا: یا عارُ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader