پیغمبر کی رہنمائی
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
المسلمین (اے مسلمانوں کے لیے ننگ و عار)۔ حضرت حسن نے اس کے جواب میں کہا: العار خیر من النار (ننگ و عار آگ سے بہتر ہے) البدایة والنہایة، جلد 8، صفحہ 19-18۔ حضرت حسن کی اس مصلحانہ روش کو عام مسلمانوں نے پسند نہیں کیا، کیوں کہ اُن کے نزدیک، یہ ذلت اور پسپائی کی روش تھی۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگی طور پر اس روش کی تصدیق فرمائی تھی ۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت حسن جب چھوٹے تھے، تو آپ نے اُن کے بارے میں پیشین گوئی کے انداز میں فرمایا تھا: إن ابني هذا سید، ولعل اللہ أن يصلح به بين فئتين عظيمتين من المسلمين (صحيح البخاري، رقم الحديث: 2704 ) یعنی یہ میرا بیٹا سردار ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہ کے درمیان صلح کرا دے۔ اس واقعے سے زندگی کی ایک اہم حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک روش جو عام مسلمانوں کی نظر میں ذلت اور پسپائی کی روش ہو، وہی روش پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں درست قیادت کی ایک اعلیٰ مثال کی حیثیت رکھتی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے معاملات میں ذلت اور پسپائی کے الفاظ جاہلیت کے الفاظ ہیں۔ اسلامی طریقہ یہ ہے کہ اس طرح کے معاملات کو نتیجہ کی روشنی میں دیکھا جائے ۔ اسلامی تعلیم کے مطابق ، نزاعی معاملات میں صرف وہ طریقہ صحیح طریقہ ہے جو ٹکراؤ اور تشدد سے بچانے والا ہو۔ اس کے برعکس ، جو طریقہ ٹکراؤ اور تشدد کی طرف لے جائے ، وہ بلاشبہ جاہلیت کا طریقہ ہے۔ اہلِ ایمان پر لازم ہے کہ وہ اس طرح کے معاملے میں ٹکراؤ سے اعراض والا طریقہ اختیار کریں ، خواہ ظاہر میں لوگوں کو وہ ذلت اور پسپائی کا طریقہ دکھائی دیتا ہو۔ اس واقعے میں اُن تمام مسلمانوں کے لیے بہت بڑی نصیحت ہے، جہاں کشمیر جیسے حالات پیش آ رہے ہیں۔ موجودہ زمانے میں بہت سے ایسے مقامات ہیں جہاں کے مسلمان مذکورہ قسم کی صورت حال سے دوچار ہیں۔ ایسے تمام مسلمانوں کے لیے مذکورہ واقعہ ایک رہنما واقعے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ مسلمان اگر قومی عزت اور قومی وقار کی اصطلاحوں میں سوچتے ہیں تو اُنھیں فوراً اپنی اس سوچ کو چھوڑ دینا چاہئے، اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی میں اُنھیں یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ ہر حال میں امن اور مصالحت کا طریقہ اختیار کریں گے ، نہ کہ ٹکراؤ اور تشدد کا طریقہ۔ حضرت حسن کے الفاظ میں ، اس طرح کی صورت حال میں تشدد کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader