صبح کشمیر
Urdu book, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
طریقہ اختیار کرنا، جہنم کا طریقہ ہے، اور امن کا طریقہ اختیار کرنا جنت کا طریقہ۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد کے زمانے میں، حضرت حسن بن علی مسلمانوں کے درمیان غیر مقبول ہوگئے ۔ اس کا سبب کیا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ لو پروفائل (low-profile) میں بولتے تھے۔ عوام کا یہ عجیب مزاج ہے کہ وہ ایسے افراد کو اپنا قائد بنا لیتے ہیں جو ہائی پروفائل (high-profile) میں بولیں، اور جو شخص لو پروفائل میں بولے، وہ اُن کے درمیان صرف ایک غیر اہم شخص بن کر رہ جاتا ہے۔ مگر عقل اور اسلام دونوں کا یہ فیصلہ ہے کہ خدا کی اس دنیا میں، ہائی پروفائل میں بولنے والے لوگوں کا انجام تباہی ہو، اور لو پروفائل میں بولنے والوں کا انجام کامیابی۔ اسلام کی صراط مستقیم پر صرف وہ لوگ ہیں جو لو پروفائل میں بولنے والے رہنما کا ساتھ دیں۔ اللہ کی نصرتیں صرف ایسے لوگوں کے لیے ہی مقدر ہیں۔ اتباع یہودیت صهیونیت(Zionism) موجودہ زمانے کے یہودیوں کی سب سے بڑی تحریک ہے۔ یہ تحریک 1897 میں شروع ہوئی ۔ اس کا مقصد تھا— فلسطین میں دوبارہ یہودی ریاست قائم کرنا : Zionism: Political and cultural movement seeking to re-establish Jewish national state in Palestine. دوسرے لفظوں میں یہ کہ صهیونیت، زمین مرکزی سیاست (land-based politics) کا دوسرا نام ہے۔ موجودہ زمانے کے یہودی اپنی تمام طاقت ، اپنا تمام سرمایہ، اپنے تمام وسائل اس سیاست کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے وہ ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ موجودہ زمانے کے مسلمان، حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق، اسی یہودی اُسوہ کا اتباع کر رہے ہیں۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی سرگرمی براہِ راست طور پر یا بالواسطہ طور پر اسی مبنی بر زمین سیاست (land-based politics) کا نمونہ ہے۔ ہر جگہ کے مسلمانوں نے اسی قسم کی تحریک چلائی کہ وہ زمین کے ایک خطے پر قبضہ کریں اور وہاں اپنی حکومت قائم کریں۔ پاکستان، فلسطین، کشمیر، بوسنیا، چیچنیا، اراکان، فلپائن، سکلیا نگ، وغیرہ ۔ ساری دنیا کے مسلمان اس مبنی برزمین سیاست میں یا تو عملاً شریک ہیں، یا وہ اس انداز میں سوچتے ہیں، یا اپنی تقریر اور تحریر میں اسی کا چرچا کرتے ہیں۔ یہ بلاشبہ یہودی طریقہ کا اتباع ہے۔ اس قسم کے قومی اور سیاسی جھگڑے ، خواہ وہ اسلام کے نام پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader