صبح کشمیر
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
ورنہ نہیں۔ اسلام کا اصول، تکلیف بقدر وسع (2: 286) کا اصول ہے۔ امر موعود، امر مقصود قرآن کی سورہ النور میں اجتماعی زندگی کے بارے میں ایک حکم بیان ہوا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: ’’اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے اُن لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائے اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو زمین میں اقتدار عطا کرے گا، جیسا کہ اُن سے پہلے لوگوں کو اقتدار عطا کیا تھا، اور اُن کے لیے ان کے اُس دین کو جلا دے گا جس کو ان کے لیے پسند کیا ہے۔ اور ان کے خوف کی حالت کے بعد اس کو امن سے بدل دے گا۔ وہ صرف میری عبادت کریں گے اور کسی چیز کو میرا شریک نہ بنائیں گے۔ اور جو اس کے بعد انکار کرے، تو ایسے ہی لوگ نافرمان ہیں‘‘ (55: 24)۔ قرآن کی اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر سیاسی اقتدار کی حیثیت امرِ موعود کی ہے، نہ کہ امر مقصود کی۔ مسلمانوں کے لیے اپنے عمل کا نشانہ صرف یہ ہے کہ وہ اپنے اندر ایمان اور عملِ صالح کی صفات پیدا کریں، وہ اپنی ساری توجہ اسی داخلی نشانے پر لگادیں۔ جہاں تک زمین پر سیاسی غلبہ کا معاملہ ہے، اس کا تعلق تمام تر اللہ تعالیٰ سے ہے۔ قرآن کے مطابق، زمین پر سیاسی غلبہ کا فیصلہ براہِ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے، اور وہ اُسی کو ملتا ہے جس کے لیے اللہ نے اس کا فیصلہ کیا ہو (26: 3)۔ اس سے معلوم ہوا کہ سیاسی نظام کے قیام کو نشانہ بنا کر عمل کرنا، ایک مبتدعانہ عمل ہے۔ وہ دین کے نام پر بے دینی ہے۔ وہ اسلام کے نام پر اسلام سے انحراف کرنا ہے۔ اس قسم کی کوشش کو کبھی خدا کی نصرت نہیں ملے گی، اس لیے ایسی کوشش کبھی کامیاب ہونے والی نہیں۔ یک طرفہ رپورٹنگ قرآن کی سورہ المطففین میں، ناپ تول میں کمی کو ایک مجرمانہ فعل بتایا گیا ہے۔ یہاں متعلق آیات کا ترجمہ نقل کیا جاتا ہے: خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی۔ جو لوگوں سے ناپ کر لیں تو وہ پورا لیں۔ اور جب وہ اُن کو ناپ کر یا تول کر دیں تو گھٹا کر دیں: Woe to those who give short measure, who demand of other people full measure for themselves, but when they give by measurment or weight to others, they give them less.(83:1-3)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader