امر موعود، امر مقصود
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی اس آیت میں جس اخلاقی برائی کا ذکر ہے، اُس سے مراد محدود طور پر صرف ناپ تول کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق زندگی کے تمام اجتماعی معاملات سے ہے۔ موجودہ زمانے میں اس تطفیف کی ایک تباہ کن صورت وہ ہے جس کو یک طرفہ رپورٹنگ کہا جا سکتا ہے۔ موجودہ زمانے میں یہ برائی مسلمانوں کے اندر بہت زیادہ عام ہے۔ مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے یہ کرتے ہیں کہ جب بھی مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان کوئی ٹکراؤ ہو تو وہ صرف غیر مسلموں کی طرف سے کی جانے والی کارروائی کو بیان کرتے ہیں، اور مسلمانوں نے اپنی طرف سے جو کچھ کیا تھا، اُس کو وہ حذف کر دیتے ہیں۔ وہ غیر مسلموں کی جوابی کارروائی کو بیان کرتے ہیں، وہ مسلمانوں کی طرف سے کئے جانے والے اقدام کو بیان نہیں کرتے۔ اس طرح کے معاملات میں کہنے والے اکثریہ کہتے ہیں کہ کوئی آپ کے گھر میں گھس آئے تو آپ کیا کریں گے۔ اسی کا نام یک طرفہ رپورٹنگ ہے، کیوں کہ کوئی گھسنے والا اچانک نہیں گھستا، بلکہ پہلے گھر والے اپنی کسی کارروائی سے اس کو مشتعل کرتے ہیں، اس کے بعد کوئی گھسنے والا اُن کے گھر میں گھستا ہے۔ اس کا حل اپنے حصے کی اشتعال انگیزی کو روکنا ہے، نہ کہ گھسنے والے کے خلاف بے فائدہ چیخ و پکار کرنا۔ اسی طرح کی صورتِ حال کے بارے میں، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: الفتنة نائمة، لعن الله من أيقظها (الجامع الصغير للسيوطي، رقم الحديث: 5975) یعنی فتنه سویا ہوا ہے۔ اللہ اُس شخص پر لعنت کرے جو اس سوئے ہوئے فتنے کو جگائے۔ اس یک طرفہ رپورٹنگ (one-sided reporting) کا یہ بھیانک انجام ہوا ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان یہ سمجھنے لگے ہیں کہ وہ صرف مظلوم ہیں، اور دوسرے لوگ صرف ظالم۔ اس ناقص رپورٹنگ کا مزید نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان منفی سوچ (negative thinking) میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ وہ دوسری قوموں کو دشمن سمجھ کر اُن سے نفرت کرنے لگے ہیں۔ انسانوں کے بارے میں وہ نفرت کی نفسیات میں جیتے ہیں، نہ کہ محبت کی نفسیات میں۔ اس یک طرفہ رپورٹنگ کی برائی صرف یہ نہیں ہے کہ وہ حقیقت کے اعتبار سے، خلافِ واقعہ ہے۔ اس کا شدید تر نقصان یہ ہے کہ اُس نے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو منافقت میں مبتلا کر دیا ہے۔ مسلمانوں کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ دوسری قوموں سے الگ ہو کر اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔ اپنے مادی مفاد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader