صبح کشمیر
Urdu book, p. 51
By Maulana Wahiduddin Khan
آغاز کی علامت ہیں۔ ایک بار جب تاریخ میں ایک صحت مند عمل (healthy process) شروع ہو جائے تو وہ جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی منزل تک پہنچ جائے ۔ مذکورہ کشمیری مسلمان کے الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ ــ کشمیری مسلمان پہلے بے شعوری میں جی رہے تھے، اب انھوں نے شعور میں جینا سیکھ لیا ہے۔ کشمیری مسلمان پہلے نفرت میں جی رہے تھے، اب انھوں نے محبت میں جینا شروع کر دیا ہے۔ کشمیری مسلمان پہلے انسان کو اپنا حریف سمجھتے تھے، اب انھوں نے انسان کو اپنا مددعو سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ کشمیری مسلمان پہلے تشدد میں جی رہے تھے، اب انھوں نے امن میں جینے کا راز دریافت کر لیا ہے۔ کشمیری مسلمان پہلے شیطان کے کلچر کو اختیار کئے ہوئے تھے، اب انھوں نے فرشتوں کے کلچر پر چلنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ شیطان کا کلچر کیا ہے، اللہ نے آدم (انسان) کو پیدا کیا اور ابلیس سے کہا کہ انسان کا اعتراف کرو۔ ابلیس نے ایک خود ساختہ عذر لے کر انسان کا اعتراف کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے برعکس، فرشتوں نے اللہ کے حکم کے مطابق، فوراً آدم کا اعتراف کر لیا۔ گویا شیطان نے آدم کی طرف پتھر پھینکے اور فرشتوں نے اس معاملے میں اپنے لیے خدا کے کلام کا انتخاب کیا۔ اس دنیا میں یہی انسان کا امتحان ہے۔ جو لوگ دوسرے کی طرف پتھر پھینکیں، وہ امتحان میں نا کام ہوئے ۔ اس کے برعکس، جو لوگ دوسروں کا استقبال خدا کے کلام سے کریں، وہ کامیاب ٹھہرے، کیوں کہ انھوں نے وہ طریقہ اختیار کیا جو فرشتوں کا طریقہ ہے۔ کشمیر کے مسلمانوں کا یہ نیا فیصلہ، کشمیر کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ یہ تاریک رات کے بعد روشن صبح کے طلوع کا اعلان ہے۔ قرآن کی طاقت قرآن دلوں کو مسخر کرنے والی کتاب ہے۔ تاریخ میں کثرت سے اس کی مثالیں موجود ہیں جب کہ قرآن نے کسی فرد یا گروہ کے اندر اپنی نظریاتی طاقت سے، انقلاب پیدا کر دیا۔ قرآن، خدا کی کتاب ہے اور انسان، خدا کی مخلوق۔ قرآن کی یہی وہ صفت ہے جس نے قرآن کے اندر انسانوں کو مسخر کرنے کی صلاحیت پیدا کر دی ہے۔ اس معاملے کی ایک تاریخی مثال مصر ہے۔ دورِ اول کے مسلمان جب مصر میں داخل ہوئے ، اُس وقت مصر کے لوگ قبطی زبان بولتے تھے، اور وہ شرک کے مذہب پر قائم تھے۔ قرآن کے اثر سے انھوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader