صبح کشمیر
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
نے نہ صرف اپنے مذہب کو تبدیل کیا، بلکہ انھوں نے قرآن کی زبان (عربی) کو بھی اپنی زبان بنا لیا۔ مصریات کے ایک برٹش مورخ سر آرتھر کیتھ (Sir Arthur Keith) نے اس واقعے کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے — مصر کے لوگ تلوار سے مفتوح نہیں ہوئے، بلکہ وہ قرآن سے مفتوح ہوئے: The Egyptians were conquered not by the sword, but by the قرآن دوبارہ اپنے اس فاتحانہ کردار کو ادا کر سکتا ہے، بشرطیکہ قرآن کو ماننے والے غیر قرآنی سرگرمیوں کو چھوڑ دیں اور وہ قرآن کے پرامن پیغام کو دنیا کے لوگوں تک پہنچا دیں۔ اسلام کی بہار جون 1989 میں، میں نے کشمیر کا سفر کیا تھا۔ ایک کشمیری مسلمان نے بتایا کہ اس سفر کے دوران میں نے سری نگر کی ایک مجلس میں کہا تھا کہ — کشمیر میں مجھ کو اسلام کی بہار دکھائی دیتی ہے۔ کشمیر کے بارے میں یہ بات میں نے کشمیر کے بالفعل (actual) کو لے کر نہیں کہی تھی، یہ بات میں نے کشمیر کے بالقوہ (potential) کو لے کر کہی تھی۔ کچھ نادان لیڈروں نے کشمیر یوں کے جذبات کو بھڑکا کر یہاں سیاست کی گرم ہوائیں چلا دیں، لیکن یہ بات کشمیریوں کے اصل مزاج کے مطابق نہیں۔ کشمیری لوگ اپنے مزاج کے اعتبار سے، امن پسند لوگ ہیں۔ اگر اُن کو صحیح رہنمائی مل جائے تو یقینی طور پر یہاں ایسا ہوگا کہ خزاں کے موسم کی جگہ بہار کا موسم آجاۓ۔ تشدد کی گرم ہواؤں کے بجاۓ یہاں امن کی ٹھنڈی اور خوش گوار ہوائیں چلنے لگیں۔ یہاں دوبارہ سیاسی اسلام کے بجاۓ، ربانی اسلام کا دور دورہ ہو جاۓ۔ کشمیر میں اسلام کی بہار آنے کا پورا امکان ہے، لیکن یہ امکان اپنے آپ واقعہ نہیں بن سکتا۔ اس کے لیے ضرورت ہے کہ اسلام کی پرامن تعلیمات کو یہاں کے لوگوں میں عام کیا جاۓ۔ لوگوں کے درمیان شعوری تعمیر نو (intellectual re-engineering) کی تحریک چلائی جاۓ۔ لوگوں کو بتایا جاۓ کہ نفرت اور تشدد اُن کے لیے کوئی انتخاب نہیں۔ اُن کے لیے انتخاب صرف ایک ہے، اور وہ امن اور محبت ہے۔ اسی میں ان کی دنیا کی کامیابی چھپی ہوئی ہے اور اسی میں اُن کی آخرت کی کامیابی بھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader