کشمیر کا خواب
Urdu book, p. 53
By Maulana Wahiduddin Khan
کشمیر کا خواب ایک مسلم نوجوان اگست 2008 میں نئی دہلی سے کشمیر گئے۔ وہاں وہ تین ہفتہ رہے۔ ان کی عادت ہے کہ وہ روزانہ اپنی ڈائری لکھتے ہیں۔ وہ کشمیر سے واپس آئے تو انھوں نے مجھ کو اپنی ڈائری دکھائی۔ ان کی اس ڈائری کا ایک اندراج یہ تھا: ”14 اگست 2008 کی ایک رات کو میرا قیام کشمیر کے ایک تعلیمی ادارہ میں تھا۔ وہاں ادارے کے ایک طالب علم بھی موجود تھے۔ صبح کو میں بیدار ہوا تو مذکورہ طالب علم نے ماہ نامہ الرسالہ سے متعلق اپنا ایک خواب بیان کیا، جو انھیں کے الفاظ میں اس طرح تھا: ”میں نے دیکھا کہ ایک بوڑھا شخص ہے۔ اس کے چہرے پر ہلکی ہلکی سفید داڑھی ہے۔ وہ ان پڑھ ہے۔ وہ چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ مجھے الرسالہ کا ممبر بناؤ، مجھے الرسالہ کا ممبر بناؤ۔‘‘ اس خواب میں مذکورہ بوڑھا آدمی گویا کشمیر کی روح ہے۔ کشمیر کی روح چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ جو منفی افکار میرے درمیان پھیلائے جا رہے ہیں، اُن سے میں بے زار ہوں، ان کو بند کرو۔ میرے درمیان الرسالة کو پھیلاؤ، میرے درمیان الرسالة والے مثبت افکار کو عام کرو۔ کشمیر میں اکتوبر 1989 میں متشددانہ تحریک کا آغاز ہوا۔ اس متشددانہ تحریک کے دوران کشمیر میں جان و مال کا بے حساب نقصان ہوا ہے۔ اس خود ساختہ جہاد نے کشمیر کو تباہی کے سوا اور کچھ نہیں دیا۔ اب کشمیر کی سلامتی کی صرف ایک صورت ہے، اور وہ یہ ہے کہ کشمیر میں اُن افکار کو زیادہ سے زیادہ پھیلایا جائے جس کا پیغام ماہ نامہ الرسالہ میں مسلسل طور پر دیا جا رہا ہے۔ اسی میں کشمیر کے لیے زندگی ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے، وہ موت اور تباہی کے سوا کچھ اور نہیں۔ نام نہاد کشمیری تحریک سے کچھ لیڈروں کو فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن خود کشمیر یا کشمیری عوام کا اس میں کچھ فائدہ نہیں— اب آخری وقت آ گیا ہے کہ اس معاملے میں نظر ثانی کی جائے اور جذباتیت کو چھوڑ کر حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ اسلام کے نام پر غیر اسلام مارچ 2012 کا واقعہ ہے۔ ایک انتہا پسند ہندولیڈر انڈیا کے ایک شہر میں پہنچے۔ وہاں ان کی تقریر ہوئی۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ مکہ کا کعبہ اصل میں بتوں کا مندر تھا۔ مسلمانوں نے قبضہ کر کے اُس کو اپنی مسجد بنا لیا۔ اس تقریر پر وہاں کے مسلمان مشتعل ہو گئے۔ انھوں نے وہاں جلوس نکالا، پرجوش نعرے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader