Urdu book · صبح کشمیر

صبح کشمیر

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

لگائے۔ اس کے نتیجے میں وہاں ہندو مسلم فساد ہوگیا۔ مقامی لوگوں کو جان و مال کا کافی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ مسلمانوں کا یہ رد عمل سراسر ایک قومی رد عمل تھا، اُس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ان مسلمانوں کے اندر اگر صحیح ذہن ہوتا تو وہ سوچتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب 610 عیسوی میں توحید کا مشن شروع کیا تو اُس وقت عملاً ایسا تھا کہ کعبہ میں کئی سو کی تعداد میں بت رکھے ہوئے تھے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مشتعل نہیں ہوئے، بلکہ پر امن انداز میں آپ لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس طرح کی بے بنیاد تقریر پر مشتعل نہ ہوں، بلکہ اُسے نظر انداز کردیں، وہ اس واقعہ کو ایک موقع کے طور پر استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو اسلام کا پیغام پہنچائیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ مسلمان کس طرح پیغمبر کے نام پر غیر پیغمبرانہ روش کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ وہ اسلام کے نام پر ایسی تحریکیں چلاتے ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، ایسے مسلمانوں کو جاننا چاہیے کہ معاملہ اسی دنیا میں ختم نہیں ہو جائے گا۔ آخرت میں اُن سے سوال کیا جائے گا کہ تم نے ایسا دین کہاں سے ایجاد کر لیا جس کو اللہ نے اپنے پیغمبر کے ذریعے بھیجا نہیں تھا اس طرح کی غوغائی سیاست بلاشبہ اسلام کے خلاف ہے، اُس کو کبھی خدا کی نصرت ملنے والی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں اِس قسم کے ہنگامے ہر جگہ صرف مسلمانوں کے حالات کو بگاڑنے کا سبب بن رہے ہیں، نہ کہ حالات کے درست کرنے کا سبب۔ جذباتی سیاست کا نقصان 1947 کے بعد کشمیر کی ریاست انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک نزاعی ایشو بن گئی۔ اب بے شمار نقصانات کے بعد پاکستان نے اس معاملے میں دانش مندانہ پالیسی اختیار کی ہے۔ پاکستانی حکومت نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ انڈیا کو موسٹ فیورڈ نیشن (Most Favoured Nation) کا درجہ دے دیا جائے۔ اس کی رپورٹ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمس (یکم مارچ 2012، صفحہ 15 )۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انڈیا نے پاکستان کو 1996 میں موسٹ فیورڈ نیشن کا درجہ دے دیا تھا۔ اس کے جواب میں پاکستان کو بھی یہی کرنا چاہیے تھا، مگر پاکستانی لیڈروں نے ایسا کرنے میں بہت دیر کی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page