صبح کشمیر
Urdu book, p. 55
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ ڈرتے تھے کہ کشمیر کے بارے میں حساس پاکستانی عوام اس کے خلاف سخت ردِ عمل کا اظہار کریں گے۔ اس واقعے میں لیڈرشپ کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ لیڈرشپ کو کبھی ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ کسی ایشو پر جذباتی انداز اختیار کرے، وہ اس کے بارے میں ہائی پروفائل میں بولنے لگے۔ اس قسم کا طریقہ لیڈرشپ کے لیے ایک غیر دانش مندانہ طریقہ ہے، کیوں کہ عوام کو اگر ایک بار جذباتی تقریریں کر کے بھڑکایا دیا جائے تو وہ حقیقت پسندانہ مزاج کھو دیتے ہیں۔ اس کے بعد خواہ حالات کتنے ہی بگڑ جائیں، وہ یوٹرن (U Turn) لینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اُن کا ذہن یہ بن جاتا ہے کہ ـــ خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے، لیکن ہم اس مسئلے پر مفاہمت نہیں کریں گے۔ اس قسم کا مزاج کسی قوم کی ترقی کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اجتماعی زندگی میں جذباتی انداز کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ اجتماعی زندگی نام ہے ـــ اپنی سوچ اور فریقِ ثانی کی سوچ کے درمیان ایڈجسمنٹ تلاش کرنے کا۔ اجتماعی زندگی کے معاملات یک طرفہ بنیاد پر طے نہیں ہوتے، بلکہ وہ دو طرفہ بنیاد پر طے ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اجتماعی معاملات میں جذباتی سیاست کا طریقہ ایک سنگین رکاوٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اجتماعی زندگی کے معاملات یا تو فریقِ ثانی کی رعایت کے ذریعے حل ہوتے ہیں، یا وہ کبھی حل نہیں ہوتے۔ دعوتی طرِز فکر ایک کشمیری مسلمان ہمارے دعوتی مشن سے وابستہ ہیں۔ انھوں نے ٹیلی فون پر بتایا کہ 23 ستمبر 2010 کو کشمیر میں پبلک انٹریکشن (Public Interaction) کے عنوان کے تحت حکومت کی طرف سے ایک پروگرام ہوا۔ اس میں انڈین آرمی کے اعلیٰ افسران اور مقامی مسلمان موجود تھے۔ اس پروگرام کے مہمانِ خصوصی مسٹر گر دیپ سنگھ، جنرل کمانڈنگ آفیسر (GCO) اور مسٹر انل پانڈے (بریگیڈیر) تھے۔ مذکورہ ساتھی نے بتایا کہ اس موقع پر ایک کشمیری مسلمان نے اپنا ذاتی تاثر بیان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مسئلہ کشمیر کو تجارت بنا لیا ہے، یہ لوگ اب کشمیر کے نام پر صرف سیاسی تجارت کر رہے ہیں۔ میں نے مذکورہ مسلمان سے کہا کہ میں نے بھی قرآن (11:10-61) کے مطابق، ایک تجارت شروع کی ہے۔ اس کے بعد ہمارے ساتھی پبلک انٹریکشن کے اس پروگرام میں قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر لے کر پہنچے۔ وہاں انھوں نے لوگوں کو مطالعہ کے لیے قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader