صبح کشمیر
Urdu book, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
دیا۔ انہوں نے مسٹر گردیپ سنگھ اور مسٹر انل پانڈے کو ترجمہ قرآن کے علاوہ، ہمارے یہاں سے شائع ہونے والی کتاب’’ پرافت آف پیس ‘‘مطالعہ کے لیے دی ۔ اس کے بعد مسٹر گردیپ سنگھ نے اپنی تقرير میں کہا کہ حال میں، قرآن برننگ کے اشو کو لے کر آپ لوگوں نے کشمیر میں ہنگامہ کیا، جس کے نتیجے میں یہاں 17 نوجوان ہلاک ہو گئے ۔ مسٹر گردیپ سنگھ نے قرآن کو اپنے ہاتھ میں لے کر کہا کہ آپ لوگ قرآن کے نام پر تشدد (violence) کرتے ہیں۔ مجھ کو بتائیے کہ قرآن کی کس آیت میں تشدد کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سوال پر تمام مسلمان خاموش رہے ۔ اگر آدمی کے اندر دعوتی ذہن موجود ہو تو وہ اس قسم کے ہر موقع کو دعوت کے لیے استعمال کرے گا، وہ ایسے موقع پر اللہ کے بندوں کو اللہ کے کلام کا تحفہ پیش کرے گا۔ اس کے برعکس ، اگر آدمی کا ذہن دعوتی طرز فکر سے خالی ہو تو اس کو ایسا ہر دعوتی موقع محض’’ سیاست‘‘ کا ایک اسٹیج معلوم ہو گا۔ ایسے موقع پر دوسروں کو دینے کے لیے اس کے پاس صرف نفرت کا تحفہ ہو گا، نہ کہ محبت کا تحفہ ۔ دورِ جدید: دورِ مدعو قدیم زمانے میں عالمی سیاحت (tourism) کا کوئی تصور نہ تھا۔ اس لیے کہ قدیم زمانے میں سفر کے ذرائع موجود نہیں تھے۔ موجودہ زمانے کو دورِ مواصلات (age of communication) کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں سفر کے وسائل اور جغرافیہ کے علم کی بنا پر ایسا ہوا کہ سفر بہت زیادہ بڑھ گیا۔ لوگ بڑی تعداد میں ادھر سے اُدھر جانے لگے، یہاں تک کہ کہا جانے لگا کہ موجودہ زمانے میں پوری دنیا ایک عالمی گاؤں (global village) بن گئی ہے ۔ دعوت کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اسفار کی کثرت کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ محض مسافروں کی نقل و حرکت (mobility) نہیں ، بلکہ وہ مدعو کی نقل و حرکت ہے۔ جدید کمیونیکیشن سے پہلے داعی اور مدعو کے درمیان فاصلہ ہوا کرتا تھا۔ اب یہ حال ہے کہ مدعو خود تیز رفتار سواریوں کے ذریعے سفر کر کے داعی کے پاس پہنچ رہا ہے ۔ مختلف اسباب سے، داعی اور مدعو کے درمیان مادی اور ذہنی فاصلے ختم ہو چکے ہیں ۔ اس اعتبار سے، جدید دور کو مدعو کا دور کہا جائے تو وہ بالکل درست ہوگا ۔ یہ صورت حال پوری دنیا میں پیش آئی ہے۔ مگر جو علاقے سیاحتی علاقے کہے جاتے ہیں ، ان کے بارے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader