صبح کشمیر
Urdu book, p. 57
By Maulana Wahiduddin Khan
میں یہ بات مزید اضافے کے ساتھ درست ہے۔ انھیں علاقوں میں سے ایک علاقہ ریاست جموں وکشمیر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جموں وکشمیر میں جتنی زیادہ آبادی ہے، تقریباً اتنے ہی سیاح (tourist) وہاں ہر سال پہنچتے ہیں، ریاست جموں وکشمیر کے مسلمانوں کو یہ خصوصی موقع حاصل ہے کہ وہ مدعو کے اس گروہ کو اللہ کا پیغام پہنچائیں۔ اس کام کے لیے سب سے زیادہ آسان طریقہ یہ ہے کہ قرآن کا ترجمہ اور دوسری اسلامی کتابیں اُن کو پڑھنے کے لیے دی جائیں۔ مدعو کا یہ گروہ ریاست جموں وکشمیر کے ہر علاقے میں موجود رہتا ہے۔ اگر کشمیری مسلمانوں کے اندر دعوت کی اسپرٹ زندہ ہو تو وہ اپنے قریبی مقامات پر ہر صبح وشام دعوت کے مواقع پا جائیں گے۔ دو بہتر میں سے ایک دعوت الی اللہ کا مشن ایک خدائی مشن (divine mission) ہے۔ ایسے ایک مشن کے لیے قرآن میں، إحدى الحسنيين (9:52) کی خوش خبری دی گئی ہے، یعنی اس کے لیے یہ مقدر ہے کہ دو میں سے ایک بہتر (one of the two best things) اُس کو ضرور حاصل ہو۔ پہلا بہتر نظریاتی ہے، اور دوسرا بہتر عملی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ سچے خدائی مشن کے لیے دو میں سے ایک کامیابی مقدر ہے ـــــ یا تو کامیابی بمعنی تبلیغ، یا کامیابی بمعنی انقلاب۔ موجودہ زمانے میں جن مقامات پر جہاد کے نام سے تشدد کا کلچر چلایا گیا، وہاں فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ ایسے لوگ اٹھیں جو اُس کی اصلاح کی کوشش کریں، جو ان مسلمانوں کو اُن کی غلطی سے آگاہ کریں، جو اُن کو تشدد سے امن کی طرف بلائیں، جو اُن کو بتائیں کہ تمھارا کام لوگوں کو حق کی دعوت دینا ہے، نہ کہ اُن سے ٹکراؤ کرنا۔ تمھارا ایمانی فریضہ ہے کہ تم، لوگوں کے ساتھ مدعو کا سلوک کرو، نہ کہ دشمن کا سلوک۔ تم کو چاہیے کہ تم اپنے ماحول میں خیر خواہی کا کلچر چلاؤ، نہ کہ نفرت اور رقابت کا کلچر۔ اس قسم کی مہم دوسرے مسلم علاقوں میں بھی ضروری ہے اور کشمیر میں بھی ضروری۔ اس قسم کی مہم اس یقین کے ساتھ شروع کی جا سکتی ہے کہ اس کے لیے ناکامی کا کوئی سوال نہیں۔ اس مہم کے کارکنوں کے لیے یقینی طور پر دو میں سے ایک انجام مقدر ہے ـــــ یا تو وہ لوگوں تک اپنی بات پہنچانے میں کامیاب ہوں گے اور اللہ کے یہاں اُس کا عظیم انعام حاصل کریں گے، یا ایسا ہوگا کہ لوگ ان کی بات کو مان لیں اور وہ عملی اعتبار سے اپنی زندگی کو بدلنے پر راضی ہو جائیں۔ یہ وہی چیز ہے جس کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader