صبح کشمیر
Urdu book, p. 58
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں إحدى الحسنين‘ کہا گیا ہے، یعنی یا تو نظریاتی اعتبار سے، دعوتِ حق کی کامیابی، یا عملی اعتبار سے لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب لانے کی کامیابی۔ غیر نہیں، مدعو عام طور پر لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ انسانوں کو ’اپنے‘ اور ’غیر‘ میں تقسیم کرتے ہیں، مگر اسلام کا طریقہ یہ نہیں۔ اسلام کا طریقہ یہ ہے کہ انسانوں کو مدعو کی نظر سے دیکھا جائے ۔ اپنے اور غیر کی تقسیم میں، اپنا قابلِ محبت آتا ہے، اور دوسرا قابلِ نفرت دکھائی دینے لگتا ہے۔ یہی موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان اس حقیقت کو بھول گئے ہیں کہ اپنے عقیدہ کے اعتبار سے، وہ داعی ہیں اور دوسرے تمام انسان ان کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ داعی۔ مدعو کی تقسیم میں کوئی غیر نہیں رہتا، بلکہ سارے انسان اپنے نظر آنے لگتے ہیں۔ آج کل عام طور پر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ دوسری قوموں کو اپنا حریف (rival) بنائے ہوئے ہیں۔ اگر وہ دوسری قوموں کو اپنا مدعو سمجھیں تو تمام انسان ان کو اپنے نظر آنے لگیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی شخص کے جنازے کو دیکھ کر فرمایا تھا کہ یہودھی بھی ہماری طرح انسان ہیں (صحيح البخاري، رقم الحديث: 1312)۔ مسلمان اس اسوۂ رسول کو اختیار کر لیں تو تمام قوموں کے لوگ ان کو اپنے نظر آنے لگیں گے ۔ کشمیریوں کو ہند و اپنا نظر آئے گا، عربوں کو اسرائیلی اپنا دکھائی دے گا، مغربی ملکوں میں مقیم مسلمان وہاں کے عیسائیوں کو اپنا سمجھنے لگیں گے، وغیرہ۔ دوسروں کو اپنا سمجھنے کا مطلب دوسروں کا خیر خواہ بننا ہے۔ ایک تاجر ہر انسان کو اپنا کسٹمر سمجھتا ہے۔ اس مزاج کے نتیجے میں تاجر کے اندر ہر ایک کے لیے دوستانہ سلوک (friendly behaviour) پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح مسلمان اگر اپنے کو داعی اور دوسروں کو مدعو سمجھیں تو ان کے اندر دوسروں کے لیے خیر خواہی (well-wishing) کے جذبات پیدا ہوں گے۔ اُن کے اندر تمام انسانوں کے لیے دوستانہ کلچر (friendly culture) پرورش پائے گا۔ اس کے نتیجے میں ان کی دنیا کے معاملات بھی درست ہو جائیں گے اور آخرت میں بھی وہ خدا کی رحمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔ نظریے کی طاقت روس میں اشتراکی انقلاب 1917 میں پیش آیا۔ اس سے پہلے روس میں بادشاہ کی حکومت تھی جس کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader