صبح کشمیر
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
زار (Czar) کہا جاتا تھا۔ اُس وقت کمیونسٹ پارٹی نے زار کے خلاف ایک نظریاتی جنگ شروع کی ۔ یہ نظریاتی جنگ بہت تیزی سے پورے ملک میں پھیلنے لگی۔ برطانیہ نے اس کو اپنے لیے ایک خطرہ سمجھا۔ چناں چہ کرنل بیلی (F M Bailey) کی قیادت میں ایک وفد روس بھیجا گیا۔ یہ وفد وہاں تاجر کے روپ میں گیا تھا۔ اس وفد نے روس کے حالات کا جائزہ لے کر رپورٹ حکومت برطانیہ کو پیش کی، اُس کا ایک جملہ یہ تھا— اشتراکی نظریات جو یہاں پھیلائے جا رہے ہیں، وہ زار کی پوری فوج سے زیادہ خطر ناک ہیں: Communist ideas are far more dangerous than the entire army of king Czar. تاریخ میں اس طرح کے متعدد واقعات ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ فوجی طاقت کے مقابلے میں، نظریے کی طاقت زیادہ بڑی ہوتی ہے۔ اسلام کی تاریخ اس حقیقت کی ایک ممتاز مثال ہے۔ قدیم تاریخ میں اسلام کی کامیابی ہمیشہ نظریہ یا آئیڈیالوجی کی بنیاد پر ہوئی ہے، نہ کہ تلوار یا فوجی طاقت کی بنیاد پر۔ مثال کے طور پر تیرھویں صدی عیسوی میں تا تاری قبائل کے حملے نے عباسی سلطنت کو مغلوب کر لیا۔ یہ غلبہ اتنا شدید تھا کہ مسلمانوں کی فوجی طاقت اس کے مقابلے میں غیر موثر ثابت ہوئی۔ اُس وقت اسلام کی نظریاتی طاقت ابھری۔ صرف نصف صدی کے اندر یہ واقعہ پیش آیا کہ تا تاری قبائل کی اکثریت نے اسلام قبول کر لیا۔ اسلام کے دشمن، اسلام کے دوست بن گئے۔ اسلام کی اس نظریاتی طاقت کو ایک مستشرق نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے— مسلمانوں کے مذہب نے وہاں فتح حاصل کر لی، جہاں اُن کی تلوار نا کام ہو چکی تھی: The religion of Muslims has conquered, where their arms had failed. شہادتِ حق، دعوتِ حق کلمہ شہادت، اسلام میں داخلے کا دروازہ ہے۔ ایک شخص جب اسلام کی سچائی کو دریافت کرتا ہے اور اس کے اندر یہ جذبہ جاگتا ہے کہ وہ حشر کے دن اللہ کے سامنے ایک مسلم کی حیثیت سے حاضر ہو تو وہ اپنی زبان سے یہ کلمہ ادا کرتا ہے: أشهد أن لا إله إلا الله، و أشهد أن محمداً عبده ورسوله (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد، اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader