شہادتِ حق، دعوتِ حق
Urdu book, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کلمہ کے دو پہلو ہیں بی شہادت، اور انطباتی شہادت (applied shahadah)۔ شہادت کا ابتدائی مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی اپنی ذات کے اعتبار سے، اس بات کا اعلان کرے کہ اس کا ئنات کا خالق اور مالک صرف ایک اللہ ہے، وہ اس حقیقت اعلیٰ کا گواہ (witness) بن جائے۔ اس شہادت کا دوسرا پہلو انطباتی شہادت ہے، یعنی دوسرے انسانوں کو اس حقیقت سے باخبر کرنا۔ اس بات کی کوشش کرنا کہ جس حقیقت اعلیٰ کو اُس نے دریافت کیا ہے، اُس حقیقت اعلیٰ سے کوئی بھی شخص بے خبر نہ رہے۔ یہ وہی کام ہے جس کو دوسرے الفاظ میں، دعوت الی اللہ کہا جاتا ہے۔ دعوت کا عمل جب اپنی انتہائی صورت میں انجام پائے، تو اسی کا دوسرا نام شہادت یا گواہی ہے۔ دعوت الی اللہ کا کام ایمان سے الگ کوئی کام نہیں۔ جب کسی شخص کو حقیقی طور پر ایمان حاصل ہوتا ہے، تو فطری طور پر وہ اس کے لیے بے تاب ہو جاتا ہے کہ جس سچائی کو اُس نے جانا ہے، اُس سچائی کو دوسرے لوگ بھی جان لیں۔ زندگی کا جو مقصد اُس نے دریافت کیا ہے، وہ مقصد دوسرے لوگوں کے لیے بھی ان کی دریافت بن جائے۔ دنیا اور آخرت کی سعادت کا جو راز اُس پر کھلا ہے، اس سے دنیا کے دوسرے لوگ محروم نہ رہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ شہادت اگر ذاتی دریافت کا معاملہ ہے، تو انطباتی شہادت دوسروں کو اس دریافت میں شریک کرنے کا معاملہ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر عرفات کے میدان میں اپنے اصحاب کو گواہ بناتے ہوئے اُن کے سامنے ایک تاریخی خطاب کیا تھا۔ یہ خطاب اصحاب رسول کے واسطے سے پوری امت محمدی کے لیے ہے۔ اس خطاب میں آپ نے فرمایا تھا: انّ اللہ بعثنی رحمۃً للناس کافۃً ، فَا دْعونی (معرفۃ الصحابۃ لأبی نعیم ، رقم الحدیث : 3438) یعنی اللہ نے مجھ کو دنیا کے تمام انسانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، پس تم میری طرف سے تمام انسانوں کو میرا پیغام پہنچادو۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ آواز تاریخ میں گونجتی ہوئی تمام مسلمانوں تک پہنچ رہی ہے۔ اسی طرح وہ اہل کشمیر سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ اے کشمیر کے مسلمانو، تم میرے مشن کو پورا کرو اور تمام انسانوں تک میرا پیغام پہنچانے میں میرے مددگار بن جاؤ۔ کیا کشمیر کے مسلمان پیغمبر اسلام کی اس آواز پر لبیک کہیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader