امن کی وادی
Urdu book, p. 61
By Maulana Wahiduddin Khan
امن کی وادی کشمیر میں ہر طرف فطرت کے مناظر ہیں بی سرسبز درخت ، پانی کے چشمے، بہتے ہوئے دریا، چڑیوں کی چہچہاہٹ، پھولوں اور پھولوں کی بہاریں ، اس طرح پورا کشمیر فطرت کا گارڈن نظر آتا ہے۔ کشمیر کا یہ سرسبز ماحول اپنی خاموش آواز میں پکار رہا ہے کہ یہاں نفرت اور عداوت کے لیے کوئی جگہ نہیں، یہاں تشدد کا کلچر چلانا خدا کے تخلیقی منصوبہ کے خلاف ہے، اور جو چیز خدا کے تخلیقی منصوبہ کے خلاف ہو، وہ کبھی خدا کی اس دنیا میں کامیاب ہونے والی نہیں۔ کشمیر میں 2012 کے موسم سرما میں بڑی مقدار میں اسنوفال (snow fall) ہوا۔ اسنوفال ایک خوب صورت فطری ظاہرہ (natural phenomenon) ہے۔ کسی نے درست طور پر کہا ہے کہ اسنوفال ایک قسم کی روحانی بارش (spiritual rain) ہے۔ 13 فروری 2012 کو ایک کشمیری مسلمان کی طرف سے موبائل پر ہمارے ایک ساتھی کو یہ میسج (SMS) ملا بی کشمیر اس وقت اسنوفال کی وجہ سے سفید ہورہا ہے ۔ سفیدی ، امن کی علامت ہے۔ یہ فطرت کا سبق ہے، اور فطرت کے اس پیغام کی خلاف ورزی صرف تباہی تک پہنچانے والی ہے : Today Kashmir is white due to snow fall. White is the symbol of peace. This is the lesson from nature, and violation of the law of nature always leads to destruction. کشمیری مسلمان کا یہ پیغام گویا کشمیر کی روح کی ایک پکار ہے۔ کشمیر کی روح ، فطرت کی زبان میں یہ پکار رہی ہے کہ کشمیر اپنی تخلیق کے اعتبار سے، امن کی ایک وادی ہے۔ کشمیر کو اس کے خالق نے اس لیے چنا ہے کہ وہ دنیا کو امن کا پیغام دے۔ وہ فطرت کا ایک ایسا گہوارا بنے جہاں سے خدا کے بندوں کو امن اور انسانیت کا پیغام ملتا ہی کشمیر کا اصل رول ہے، اہل کشمیر کے لیے ترقی اور کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ خدا کے عطاکئے ہوئے اپنے اس رول کو پہچانیں اور اُس کو بھر پور طور پر انجام دیں۔ یہ وعدہ خلافی کا معاملہ نہیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مدینہ میں خلافت کے سوال پر مہاجرین اور انصار کے درمیان اختلاف پیدا ہوا۔ انصار کا یہ کہنا تھا کہ : منا اُمیر، ومنکم امیر (ایک امیر مہاجرین میں سے اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader