صبح کشمیر
Urdu book, p. 62
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک امیر انصار میں سے )۔ آخر کار حضرت عمر کے اس قول پر فیصلہ ہوا: نحْن الْأمراء، وأنتم الوزراء (مہاجرین میں سے امیر ہوں اور انصار میں سے وزیر)۔ لیکن بعد کو اس وعدے پر عمل نہ ہوسکا۔ حضرت عمر فاروق نے اپنے آخری زمانے میں کہا کہ ہم نے انصار سے وعدہ کیا تھا کہ ہم خلافت کے کام میں انصار کو وزیر بنائیں گے، لیکن ہم ایسا نہ کر سکے: واللہ ما وفينا لهم، كما عاهدنا هم عليه (مسند البزار، رقم الحدیث : 281 ) یہ وعدہ خلافی کی بات نہ تھی، بلکہ وہ اجتماعی حکمت کی بات تھی۔ اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ جب کوئی وعدہ کیا جائے تو اُس کو پورا کیا جائے، مگر یہ حکم انفرادی معاملات کے لیے ہے۔ انفرادی معاملات میں ایک فرد کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ کسی رکاوٹ کے بغیر اپنے وعدے کو پورا کر سکے، اس لیے فرد کے اوپر یہ لازم ہے کہ جب وہ کسی سے وعدہ کر لے تو وہ اُس کو ہر حال میں پورا کرے، وہ کسی بھی عذر کی بنا پر اپنے وعدے کے خلاف عمل نہ کرے۔ مگر اجتماعی زندگی کا معاملہ اِس سے مختلف ہے۔ جو وعدہ سیاسی اور اجتماعی زندگی سے تعلق رکھتا ہو، وہ عام معنوں میں ایک وعدہ نہیں ہوتا۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، چوں کہ اجتماعی حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے، مختلف قسم کے تقاضے اُس کے اوپر فیصلہ کن طور پر اثر انداز ہوتے رہتے ہیں، اِس لیے اِس قسم کے وعدے کبھی حتمی نہیں ہوتے، وہ حالات کے اعتبار سے بدلتے رہتے ہیں۔ اجتماعی وعدوں کے معاملے میں فریقین کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ حالات کے تقاضے کو سمجھیں ۔ وہ ابتدائی الفاظ پر اصرار کرنے کے بجائے بعد کے پیدا شدہ حالات سے مطابقت پر راضی ہو جائیں بی اجتماعی زندگی کے معاملات کبھی آنڈیل وزڈم (ideal wisdom) پر طے نہیں ہوتے، وہ ہمیشہ پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) پر طے ہوتے ہیں۔ یہی اسلام کا تقاضا ہے، اور یہی عقل کا تقاضا بھی۔ ٹکراؤ سے اعترافِ حقیقت تک میڈیا میں دو خبریں ایک ساتھ آئی ہیں بی ایک، یہ کہ پاکستانی لیڈرشپ نے کشمیر کے اشو کو وقتی طور پر ختم کر دیا ہے۔ یہ خبر نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا (27 فروری 2012) میں اِس عنوان کے تحت چھپی ہے بی پاکستان، کشمیر کے اشو کو وقتی طور پر رُڈی اشیا کے خانے میں ڈال سکتا ہے: Pakistan may junk Kashmir issue temporarily

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader